5 ستمبر 2026 - 21:24
صنعا کا سعودی عرب کو بڑا انتباہ: یمنی مزاحمت آخرکار ریاض کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردے گی

یمن کی وزارت خارجہ کے نائب وزیر برائے سیاسی امور عبداللہ علی صبری نے دعویٰ کیا ہے کہ یمن کی موجودہ جنگی حکمتِ عملی بالآخر سعودی عرب کو مذاکرات کی میز پر واپس آنے اور یمنی عوام کے جائز مطالبات تسلیم کرنے پر مجبور کردے گی۔

اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، یمن کی وزارت خارجہ کے نائب وزیر برائے سیاسی امور عبداللہ علی صبری نے دعویٰ کیا ہے کہ یمن کی موجودہ جنگی حکمتِ عملی بالآخر سعودی عرب کو مذاکرات کی میز پر واپس آنے اور یمنی عوام کے جائز مطالبات تسلیم کرنے پر مجبور کردے گی۔

المسیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے صبری نے کہا کہ سعودی عرب یمنی مزاحمت کی نئی صورتِ حال کا مقابلہ کرنے کے لیے کئی راستے اختیار کر رہا ہے، جن میں اپنے معاشی نقصانات کو کم ظاہر کرنا، یمن کے اندر اپنے اتحادی جنگجوؤں کو متحرک کرنا اور بحران کو عالمی سطح پر لے جا کر امریکا سمیت دیگر طاقتوں کو تنازع میں شامل کرنے کی کوشش شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ طویل جنگ بندی کے بعد سعودی عرب نے اپنی ذمہ داریوں سے گریز کیا اور صنعا کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر حملے کے ذریعے جنگ بندی کی خلاف ورزی کی۔ ان کے مطابق صنعا اب بھی محاصرے کے مقابلے میں محاصرہ اور کشیدگی کے مقابلے میں کشیدگی‘‘ کی پالیسی پر قائم ہے۔

صبری کا کہنا تھا کہ یمن کی حکمتِ عملی کا مقصد سعودی عرب پر سیاسی دباؤ بڑھانا ہے تاکہ ریاض دوبارہ مذاکرات کی میز پر آئے اور یمنی عوام کے جائز حقوق تسلیم کرے، جن میں مکمل محاصرہ ختم کرنا، حملے روکنا، غیر ملکی افواج کا انخلا، انسانی و معاشی مسائل حل کرنا اور قیدیوں کا تبادلہ شامل ہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ سعودی عرب بحیرۂ احمر کے بحران کو بین الاقوامی مسئلہ بنانے کی کوشش کر رہا ہے اور اسی مقصد کے لیے 14 ممالک پر مشتمل بحری اتحاد بنانے کے ساتھ پاکستان اور ترکی کے ساتھ مکہ معاہدہ بھی کیا گیا۔ ان کے مطابق ریاض امریکا کو بھی یمن کے خلاف جنگ میں شامل کرنے کے لیے سیاسی اور میڈیا سطح پر کوششیں کر رہا ہے۔

یمنی عہدیدار نے کہا کہ سعودی عرب اپنے معاشی نقصانات کو چاہے جتنا چھپانے کی کوشش کرے، یمن کی موجودہ حکمتِ عملی بالآخر واضح سیاسی نتائج پیدا کرے گی۔ ان کے مطابق سعودی عرب کو ماضی میں جہاں سے مذاکرات رکے تھے، وہیں سے دوبارہ بات چیت شروع کرنا ہوگی، نہ کہ مذاکرات کا آغاز ازسرنو کیا جائے۔

صبری نے کہا کہ صنعا طویل عرصے تک ’’نہ جنگ، نہ امن‘‘ کی کیفیت برقرار رکھنے کے حق میں نہیں بلکہ ایک فیصلہ کن نتیجے کا خواہاں ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یمن اب 2015 کے مقابلے میں بالکل مختلف پوزیشن میں ہے اور آج صنعا ہی جنگ کے اصول اور اہداف طے کرنے کی پوزیشن میں ہے۔

ان کے مطابق محاصرے کے مقابلے میں محاصرہ صرف ایک ابتدائی قدم ہے، جبکہ طویل المدت مقصد یمن کی آزادی، سعودی بالادستی کا خاتمہ اور ملک کو معاشی بحالی کے ایک نئے مرحلے میں داخل کرنا ہے۔

یمنی نائب وزیر خارجہ نے گزشتہ ہفتے آبنائے ہرمز میں سعودی آئل ٹینکروں پر حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ سعودی عرب کی جانب سے کشیدگی کم ہونے کے امکانات پر مایوسی کی علامت ہے اور آنے والے حالات یمن کے معاملے پر ریاض پر مزید دباؤ ڈال سکتے ہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha