شق القمر کے اس پار!
وہ معجزہ جو چاند تک محدود نہ تھا۔۔۔ (!)
ہمیں عادت ہے کہ معجزے کو وہاں ڈھونڈیں جہاں انسانی عقل چند لمحوں کے لئے وضاحت سے قاصر ہو جائے۔ آسمان میں جہاں چاند دو حصوں میں بٹ جاتا ہے، سمندر میں جہاں راستہ کھل جاتا ہے، لاٹھی میں جو لکڑی سے اژدہا بن جاتی ہے۔
لیکن کبھی پوچھنا چاہئے کہ: کیا سب سے بڑا معجزہ ضرورتاً وہی ہے جو آنکھ کو حیران کر دیتا ہے؟
شاید نہیں۔
کبھی معجزہ، چاند کے شقّ ہونے میں نہیں، بلکہ انسان کا اندھیرا ٹوٹ جانے میں رونما ہوتا ہے۔
محمدؐ تشریف فرما ہوئے۔ ایسی سرزمین میں جہاں طاقت و اقتدار کی رائج زبان 'تلوار' تھی اور جہل کو مقدس ورثہ سمجھا جاتا تھا۔ آئے تاکہ انسان کو آنکھ کی حیرت سے بڑھ کر کچھ عطا کریں: دل کی حیرت۔
آپؐ آئے اور خدا کی بات کی؛ ایک دور اور ناقابل دسترس تصور کے طور پر نہیں، بلکہ ایک حقیقت کے طور پر جس کو زندگی کے ہر لمحے میں موجود ہونا چاہئے۔
آسمان کی بات کی، لیکن انسان کو زمین پر بے یار و مددگار نہیں چھوڑا۔
آخرت کی بات کی، لیکن آج ہی (یعنی دنیوی حیات) کی اصلاح کے لئے آئے۔
عبادت کی بات کی، لیکن عبادت کو اخلاق سے جدا نہیں کیا۔
ایمان کی بات کی، لیکن ایمان کو عمل کی کسوٹی پر پرکھا۔
اور یہ شاید وہی معجزہ ہے جو صدیوں بعد بھی جاری ہے۔
پیغمبر اکرمؐ نے محدود عرصے میں ایسی دانش زبان پر جاری کر دی، جس کے بعض گوشوں کو سمجھنے میں، انسان آج بھی سرگرداں ہے۔ توحید اور خدا کی معرفت سے لے کر انسان کی حقیقت تک، اخلاق اور روح کی تربیت سے لے کر انسان کے کائنات سے تعلق اور دوسروں کے حوالے سے اس کی ذمہ داریوں تک۔
آپؐ صرف اپنے زمانے کے لوگوں کو مسلمان کرنے کے لئے نہیں آئے تھے۔
آپؐ نئے سرے سے 'انسان کے معنی' بیان کرنے کے لئے آئے تھے۔
اور یہ کام ہزار بار شق القمر سے زیادہ مشکل ہے۔
چاند اگر شقّ ہو جائے تو آسمان تماشا یکھتا ہے۔
لیکن اگر انسان کا دل شقّ ہو اور اس کی تاریکیوں سے روشنی نکل آئے تو تاریخ بدل جاتی ہے۔
پتھر کو اپنی جگہ سے اکھاڑا جا سکتا ہے؛
لیکن دل سے کینہ نکالنے کے لئے مرد چاہئے۔
پہاڑ کو سرکایا جا سکتا ہے،
لیکن انسان کے کندھوں سے غرور اتارنا ہر کسی کا کام نہیں ہے۔
دریا کا راستہ بدلا جا سکتا ہے،
لیکن ایک انسان جو برسوں ظلم، جھوٹ اور خودغرضی کا عادی ہو، اسے عدل اور سچائی کی طرف لوٹانا معجزہ ہے [شقّ القمر ہے]۔
محمدؐ نے ایسا ہی کیا۔
آپؐ انھوں نے ان لوگوں کو، جو کبھی بیٹی کو باعثِ شر و عار دیکھتے تھے، 'باپ' کا مقام دیا ایسا کہ وہ بیٹیوں کی عزت کے لئے جان دینے لگے۔
غلام سے عزت والا انسان بنا دیا۔
غریب سے، صاحبِ حق بنا دیا۔
دشمن سے، بخشے جانے کا امکان بنا دیا۔
اور ایک منتشر معاشرے کو امت بنا دیا؛ جو توحید کا پیغام لے کر چلے۔
یہ کوئی چھوٹا معجزہ نہیں ہے۔
پیغمبرؐ آئے تاکہ انسان سمجھے کہ اللہ کو صرف محراب میں نہیں ڈھونڈا جا سکتا۔
کبھی اللہ کو لوگوں کے حقوق میں ڈھونڈنا چاہئے۔
اس ہاتھ میں جو مدد کے لئے بڑھتا ہے۔
اس لقمے میں جو حلال ہے۔
اس عزت میں جو محفوظ رکھی جائے۔
اس غصے میں جو پی لیا جائے۔
اس طاقت میں جو ظلم کے ذریعے آلودہ نہیں ہوتی۔
اس آنسو میں جو دوسرے کے درد و رنج کے لئے بہایا جائے۔
اور شاید اسی لئے آپؐ کی ولادت کو محض تقویم (کیلنڈر) کا ایک موقع نہیں ہونا چاہئے۔
محمدؐ کا میلاد، کسی "خبر" کی آمد کی سالگرہ نہیں ہے،
بلکہ ایک ذمہ داری کی یاد دہانی ہے۔
کہ اگر آپؐ رحمۃٌ للعالمین تھے، تو ہم اپنی زندگی کے قریب ترین لوگوں کے لئے، زحمت و تکلیف کیوں ہیں؟
اگر آپؐ "امین" تھے، تو امانت میں ہمارا حصہ، کیا ہے؟
اگر آپؐ "رحمت" تھے، تو مہربانی میں ہمارا حصہ، کہاں ہے؟
اگر وہ "بشیر" تھے، تو کیا ہماری موجودگی سے کسی کے لئے امید کی کرن پہنچتی ہے؟
اگر آپؐ "نذیر" تھے، تو کیا ہم میں دوسروں کو نصیحت کرنے سے پہلے خود کو نصیحت کرنے کی جرأت ہے؟
اگر محمدؐ کا نام ہماری زبان پر ہونا چاہئے، تو ہماری زندگیوں میں بھی محمدؐ کا کوئی نشان دکھائی دینا چاہئے۔
ورنہ کیا فائدہ کہ ہم شہر میں چراغاں کر دیں، جبکہ ہمارے پڑوس میں کوئی گھر اندھیرے میں ڈوبا ہؤا ہو؟
کیا فائدہ کہ ہم درود و صلوات بھیجیں، لیکن ایک مسلمان کی عزت، ایک جملے سے، غارت کریں؟
کیا فائدہ کہ ہم پیغمبرؐ کے اخلاق پر خطابت کے جوہر جگائیں، لیکن غصے کے پہلے امتحان میں، ان تمام باتوں کو بھول جائیں؟
پیغمبرؐ سے محبت صرف زبان سے، ممکن نہيں ہے۔
محمدؐ سے محبت کے لئے 'عمل' کے امتحان سے گذرنا پڑتا ہے۔
اس کا امتحان وہاں ہے جب کوئی ہم سے بدی (اور دشمنی) کرتا ہے اور ہم پھر بھی انسان رہتے ہیں۔
وہاں جب ہم انتقام لینے کی طاقت رکھتے ہیں لیکن ہمارا انتخاب معافی اور درگذر ہے۔
وہاں جب ہم دوسرے کا حق کھا سکتے ہیں، لیکن نہیں کھاتے۔
وہاں جب کوئی ہماری آواز نہیں سنتا، لیکن ہم اس کی آواز سنتے ہیں۔
یہیں ہے کہ میلاد ایک جشن سے، ایک اندرونی انقلاب بن جاتا ہے۔
ربیع الاول آیا ہے تاکہ ہمیں ایک بار پھر یاد دلائے کہ اللہ نے نے اپنی سب سے بڑی نعمت ایک 'انسانِ کامل' کی صورت میں دنیا کو بھیج دی۔ ایک انسان جو آیا اس لئے کہ انسان، خاک سے اٹھ کر افلاک تک پہنچے۔
چنانچہ، شاید اس سال، آپؐ کی ولادت پر، ہم چاند کے شقّ ہونے کے بارے میں کم بولیں اور زیادہ تر دلوں کے شقّ ہونے کے بارے میں زیادہ۔
وہ دل جس نے برسوں کے کینہ و نفرت کے بعد، معاف کرنا سیکھ لیا ہے۔
وہ ہاتھ جس نے برسوں کی کنجوسی کے بعد بخشش کو سمجھ لیا ہے۔
وہ زبان جس نے برسوں جھوٹ بولنے کے بعد سچ بولنے کا انتخاب کر لیا ہے۔
وہ انسان جس نے برسوں تک اپنی ذات کے لئے جینے کے بعد ایک دن دوسروں کے لئے جی لیا ہے۔
یہ سب معجزے ہیں۔
اور کتنا اچھا ہے کہ ہم جان لیں کہ پیغمبرؐ کا سب سے بڑا معجزہ اب بھی دہرانے کے قابل ہے،
ہر بار جب کوئی انسان جھوٹ کو سچائی کے سامنے ہار دے،
نفرت کو محبت کے مقابلے میں،
انتقام کو درگذر کے سامنے،
اور خودغرضی کو اللہ کے سامنے۔
چاند شاید ایک رات کو شقّ ہؤا اور پھر آسمان میں پلٹ گیا۔
لیکن محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ) کا معجزہ ابھی تک زمین پر راہ چل رہا ہے،
جہاں بھی کوئی انسان،
کل سے زیادہ انسان بن کر جیتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر: خدیجہ مہدوی
ترجمہ: فرحت حسین مہدوی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ