25 اگست 2026 - 09:14
امریکہ کو شکست دینے کے عوامل - 3

جواب کو سخت طاقت کے سوا، کسی اور طاقت میں تلاش کرنا چاہئے۔ امریکہ جو خود کو سپر پاور سمجھتا ہے، اقوام کے سامنے طاقت کی زبان کے سوا کوئی اور زبان نہیں سمجھتا۔ لیکن طاقت کی یہ زبانِ، صرف میزائلوں اور فوجی آلات تک محدود نہیں ہے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ 30 اپریل 1975ع‍ سائیگون۔ آخری دن ہے۔ آخری ہیلی کاپٹر امریکی سفارت خانے کی چھت کے اوپر سے آخری سفارت کاروں کو سوار کر کے اڑان بھرتا ہے۔ جو رہ گئے ہیں، وہ بند دروازوں پر دستک دے رہے ہیں۔ یہ تصویر جو پوری دنیا میں پھیل گئی، ایک سپر پاور کو بھاگتے ہوئے دکھا رہی ہے۔

امریکہ کو شکست دینے کے عوامل - 3

حصۂ سوئم:

امریکہ کو شکست دینے کے عوامل - 3

امریکہ کو شکست دینے کے عوامل - 3

امریکہ کو شکست دینے کے عوامل - 3

سخت طاقت سے زیادہ مؤثر طاقت

واپس جنگ کے پہلے دن پر آتے ہیں۔ انقلاب کے دشمنوں کو گمان تھا کہ ـ خیمے کے ستون کے طور پر ـ رہبرِ شہیدِ انقلاب کی شہادت کے ساتھ ساتھ فوجی کمانڈروں اور اعلیٰ ذمہ داروں کی شہادت کے ساتھ ہی، اس نظام کا کام تمام ہو جائے گا۔ ان کے خیال کے مطابق، میزائل کمانڈر کے بغیر فائر نہیں ہوتے۔ وہ اس بات سے غافل تھے کہ انقلاب ایک ایسا دھارا ہے جو کسی فرد پر منحصر نہیں ہے۔ جب انقلاب کی اقدار زندہ ہوں گی، تو میزائل بھی فائر ہوں گے۔ جیسا کہ رہبرِ شہیدِ نے فرمایا: "اس قوم کی طاقت، انقلابی اقدار کے سائے میں قائم و دائم ہے۔" (20 فروری 1994ع‍)

یہ طاقت لوگوں کے عقیدے اور ایمان سے ابلتی ہے۔ بصیرت اور استقامت کی ثقافت سے، علم اور قومی مضبوطی سے، نہ کہ اسلحہ بنانے کی فیکٹریوں سے۔ اگرچہ میزائل بقا کے لئے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں لیکن جو چیز دشمن کو جارحیت سے باز رکھتی ہے، وہ "قومی عزم" اور اللہ پر ایمان کے سائے میں "سماجی یکجہتی" ہے۔

رہبرِ شہیدِ انقلاب اس بارے میں فرماتے ہیں: "اگر کوئی قوم عزم کے ساتھ آگے بڑھے، اللہ پر بھروسہ کرے اور اللہ کے حکم کی اطاعت کرے، تو کوئی طاقت اس کا ایک بال بھی بیکا نہیں کر سکتی۔" (21 مارچ 1994ع‍) اسے نرم طاقت کہتے ہیں۔

ایثار، شہادت طلبی، روحانیت پسندی، عدالت پسندی، آزادی پسندی، استکبار کے خلاف جدوجہد اور قومی اتحاد و ہم آہنگی نرم طاقت کے زمرے میں آتے ہیں۔ یعنی وہ تمام اجزاء جو استکبار کے مقابلے اور شکست کے لئے راہ ہموار کر سکتے ہیں۔

طاقت کے بازوؤں کو بیک وقت مضبوط کریں

ہمیں استکبار کے کھوکھلے دبدبے کو توڑنے کے لئے طاقت کے دونوں بازوؤں کی ضرورت ہے۔ ان میں سے کوئی بھی بازو دوسرے کے فائدے میں نہیں کٹنا چاہئے۔ رہبرِ شہیدِ انقلاب تاکید فرمایا کرتے ہیں کہ: "میں جدید اسلحے پر یقین رکھتا ہوں اور انہیں حاصل کرنے کے لئے کوشاں رہتا ہوں، لیکن میرا عقیدہ یہ ہے کہ اس سخت طاقت کے ساتھ، فکری، زبانی اور مضبوط منطق کے ہتھیاروں کو بھی بھی فروغ دینا چاہئے۔" (3 جنوری 2024ع‍)

جس طرح میزائل صلاحیت ہماری سلامتی کی ضامن ہے، اسی طرح نرم طاقت دنیا میں اسلامی انقلاب کے اثر و نفوذ اور دوام و امتداد کی ضامن ہے۔ اور طاقت کے بازوؤں کو تقویت دینے کا حتمی مقصد، دشمنیوں کو ختم کرنے کے سوا کچھ نہیں ہے جس کا یقیناً واحد راستہ دشمنوں کو مایوس کرنا ہے: "اس دشمنی کو ختم کرنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ ہم انہیں مایوس کریں؛ یعنی ایرانی قوم، ایران کی حکومت اور اسلامی جمہوری نظام کام کو اس مقام تک پہنچائیں کہ سامنے والا فریق اس بات سے مایوس ہو جائے کہ وہ کوئی بنیادی ضرب لگا سکتا ہے۔" (3 نومبر 2020ع‍)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترتیب و ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha