بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ امریکی وزیرِ خزانہ، اسکاٹ بیسنٹ نے پیر کو ایران کے خلاف نئی پابندیوں کی مہم کی تشریح کے لئے منعقدہ پریس کانفرنس میں، ایک صحافی کے اس سوال کے جواب میں ـ کہ اس اقدام کو تاریخی "ڈی ڈے (D Day)" آپریشن سے تشبیہ کیوں دی گئی ـ عالمی مالیاتی نظام کی زد پذیری کے بارے میں ایک ان کہی بات کہہ کر اہم اعتراف کیا۔
صحافی نے وزیرِ خزانہ کے فنانشل ٹائمز میں حالیہ مضمون کا حوالہ دیتے ہوئے، ـ جس میں اس نے نئی پابندیوں کو "اقتصادی ڈی ڈے (Economic D Day)" قرار دیا تھا، ایک کلیدی سوال اٹھا کر اس کے بڑے دعوے کو چیلنج کیا۔
صحافی نے کہا: تاریخی نارمنڈی آپریشن (ڈی ڈے) نازی جرمنی کو کوئی مہلت دیئے بغیر ایک اچانک اور فیصلہ کن حملہ تھا؛ اور بیسنٹ سے پوچھا: "آپ اس آپریشن کو ڈی ڈے قرار دیتے ہیں، لیکن آپ پابندیاں آج اور ایک ساتھ کیوں نافذ نہیں کرتے اور ایران کو مہلت کیوں دیتے ہیں؟"
امریکی وزیرِ خزانہ نے جواب میں، ـ جو حاضرین کی حیرت و خاموشی کا باعث بنا ـ دو ٹوک الفاظ میں کہا [یا پھر یہ الفاظ اس کی زبان سے پھسل گئے] کہ: "میں عالمی مالیاتی نظام کو درہم برہم کیوں کروں؟"
اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن عالمی معیشت کے ڈالر پر باہمی انحصار سے بخوبی آگاہ ہے اور پابندیوں کا فوری جھٹکا انسانی ہمدردی یا سفارت کاری کی اہمیت کی بنا پر نہیں، بلکہ مغربی ممالک کی معیشتوں پر اس کے ناقابلِ تلافی منفی اثرات کے خوف سے مؤخر کیا گیا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ