بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ 30 اپریل 1975ع سائیگون۔ آخری دن ہے۔ آخری ہیلی کاپٹر امریکی سفارت خانے کی چھت کے اوپر سے آخری سفارت کاروں کو سوار کر کے اڑان بھرتا ہے۔ جو رہ گئے ہیں، وہ بند دروازوں پر دستک دے رہے ہیں۔ یہ تصویر جو پوری دنیا میں پھیل گئی، ایک سپر پاور کو بھاگتے ہوئے دکھا رہی ہے۔
کیا یہ واقعہ ایک جنگ کا خاتمہ تھا؟ نہیں، یہ ایک بڑے وہم کا اختتام تھا۔ وہ وہم جو کہتا تھا کہ 'جو کوئی زیادہ سے زیادہ فوجی ہتھیاروں سے لیس ہوگا، وہی فتح یاب ہوگا۔'

یہ کہانی کہاں سے شروع ہوئی؟
اس دن سے بیس سال پہلے، امریکہ ویتنام میں داخل ہؤا۔ نہ کہ ایک لشکر کے ساتھ، بلکہ اپنی پوری فوجی طاقت کے ساتھ؛ بی 52 بمبار طیاروں نے آسمان کو سیاہ کر دیا تھا۔ نیپلم نے جنگلوں کو جلا دیا۔ امریکی ہر سال پانچ لاکھ ٹن بم ویتنامیوں پر برساتے تھے۔ اس کے مقابلے میں، ویت کانگ یعنی ویتنام کا قومی محاذ آزادی، ماہانہ ایک ہزار ٹن سے بھی کم گولہ بارود استعمال کرتا تھا۔

اگر ہم ریاضی کے فارمولوں سے جنگ کے خاتمے کا اندازہ لگائیں تو امریکہ کو بہت جلد فتح یاب ہو جانا چاہئے تھا۔ لیکن ویتنامیوں کے پاس ایک چیز تھی جس سے امریکہ واقف نہیں تھا: ایک عزم لڑنے کے لئے۔ وہ اپنی سرزمین کے لئے لڑ رہے تھے؛ اپنے بچوں کے لئے؛ ایسے مستقبل کے لئے جو وہ خود بنانا چاہتے تھے۔ جبکہ امریکیوں کو تو یہ بھی نہیں معلوم تھا کہ وہ وہاں آئے ہیں تو کیوں آئے ہیں۔

ایک امریکی افسر نے اپنے ویتنامی ہم منصب سے پوچھا: "تمہارے خیال میں ہم کیوں یہاں ہیں؟" اس ویتنامی افسر نے سوال پلٹ دیا: "نہیں، تم مجھے بتاؤ تم کیوں یہاں ہو؟" امریکیوں کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔

اس وقت کے امریکی وزیردفاع رابرٹ میک نمارا (Robert McNamara)، نے برسوں بعد اعتراف کرتے ہوئے [جاہلانہ یا از روئے تجاہل ہوئے] کہا: "ہم ویتنامیوں کو سمجھ نہیں پائے۔ ہم یہ نہیں سمجھ پائے کہ وہ کس لئے لڑ رہے ہیں؟؟" بس یہ ایک جملہ، سب کچھ واضح کر دیتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترتیب و ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ