21 اگست 2026 - 17:50
حصۂ اول | قرآن؛ انقلابی طرزِ عمل کا نقشۂ راہ؛ ایمان و بصیرت سے جہاد، عدالت اور تہذیب سازی تک

اگر توحید کو انقلابی طرزِ عمل کا نقطۂ آغاز سمجھیں تو قرآن، کتاب ہدایت اور نورانیت کا سرچشمہ ہے جو اس طرزِ عمل کی راہ روشن کرتا ہے۔ انقلابی طرزِ عمل، قرآن سے ارتباط کے بغیر، ممکن ہے کہ ایک سطحی سیاسی، سماجی یا حتیٰ کہ 'ناقابلِ حصول مثالیتی تحریک' بن کر رہ جائے۔ جب انقلابی فکر، اخلاق اور عمل قرآنی منظومے میں داخل ہو جاتا ہے تو انسان کی حرکت واقعات کے سطحی ردِ عمل سے آگے بڑھ کر رسالت (مشن)، ذمہ داری اور مستقبل کی تعمیر سے جُڑ جاتی ہے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ قرآنی نگاہ کے ذریعے انقلابی طرزِ عمل کو دیکھتے ہوئے، گہرا سوال یہ اٹھتا ہے کہ قرآن نے انسان، معاشرے، دشمن، طاقت، عدالت، مزاحمت و مقاومت، امید، عوام اور مستقبل کے بارے میں امامِ مجاہدِ شہید سید علی خامنہ ای، (طاب ثراہ) کے نظریئے کو کس طرح متاثر کیا ہے؟

امام مجاہد شہید سید علی خامنہ ای (طاب ثراہ)، کے انقلابی طرزِ عمل کا جائزہ لینے سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ قرآن کریم نے ان کے فکری، علمی و معرفتی اور انقلابی نظام کو ارتقاء بخشا ہے۔

قرآن اور زندگی کی منطقِ

قرآن کریم خود کو کتابِ ہدایت کے طور پر متعارف کراتا ہے:

"هُدًى لِلْمُتَّقِينَ؛

سرمایۂ ہدایت ہے پرہیزگاروں کے لئے۔" (سورہ بقرہ، آیت 2)

قرآنی ہدایت، محض عبادات اور مناسک میں 'فرد' کی ہدایت نہیں؛ بلکہ زندگی کے تمام شعبوں میں انسان کا سرمایۂ ہدایت ہے۔ قرآن نے انسان، معاشرے، عدالت، خاندان، معیشت، جنگ و امن، اخلاق، طاقت، ذمہ داری، سماجی اور بین الاقوامی تعلقات اور قوموں کی تقدیر کے بارے میں گفتگو کی ہے۔ اسی لئے، قرآنی نگاہ میں قرآن کو محض کتاب پڑھنے کی سطح سے بلند کر کے فکر اور عمل کے سرچشمے کی سطح تک بلند کرنا چاہئے۔

ممکن ہے کہ کوئی معاشرہ قرآن کی بہت زیادہ تلاوت کرے، مگر اس کے سماجی و سیاسی تعلقات میں عدالت، امانت، سچائی اور ذمہ داری کمزور ہو۔ اس کے بالمقابل، قرآنی فکر اس وقت معاشرے میں زندہ ہوتی ہے جب قرآن کے مفاہیم انسان کے رویئے، عمومی ثقافت، سیاست، معیشت اور حکمرانی میں ظاہر ہوں۔

لہٰذا قرآنی طرزِ عمل کے معیاروں میں سے ایک یہ ہے: قرآن میدانِ عمل اور زندگی کے متن و بطن میں حاضر ہو اور زندگی کے متن میں بھی اس کا اظہار ہو۔

ایمان؛ حرکت کا آغاز

قرآن ایمان اور عملِ صالح کے درمیان گہرا رشتہ قائم کرتا ہے:

"إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ؛

یقیناً وہ لوگ جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک اعمال سرانجام دیئے۔۔۔" (متعدد آیات، بشمول سورہ عصر، آیت 3)۔

قرآن کی منطق میں، ایمان اگر عمل سے جدا ہو تو وہ معاشرے کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ اسی لئے انقلابی طرزِ عمل کے بنیادی قواعد میں سے ایک یہ ہو سکتا ہے:

ایمان < آگاہی < ارادہ < عمل < مجاہدت < تبدیلی اور تحول و ارتقاء

ایمان انسان کو سمت دیتا ہے؛ آگہی میدان کو روشن کرتی ہے؛ ارادہ اسے حرکت میں لاتا ہے اور عمل، ایمان کو سماجی حقیقت میں عیاں کرتا ہے۔ اس نگاہ سے، حقیقی انقلابیت، محض انقلابی جذبات رکھنے کا نام نہیں؛ بلکہ ایمان کو ذمہ داری اور ذمہ داری کو عمل میں تبدیل کرنا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تحریر: آیت اللہ عباس کعبی، مورخہ 20 اگست 2026ع‍

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

حصۂ اول | قرآن؛ انقلابی طرزِ عمل کا نقشۂ راہ؛ ایمان و بصیرت سے جہاد، عدالت اور تہذیب سازی تک

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha