20 اگست 2026 - 18:00
دوسری قسط | جہاں دشمن سے دوستی کرنے کی بھاری قیمت چکانا پڑتی ہے

سورۂ ممتحنہ کی ابتدائی آیات اس مقام کی گفتگو کرتی ہیں جہاں محبت اور حق سے وفاداری کے درمیان حد کو واضح کرنا ضروری ہو جاتا ہے، جہاں دشمن پر اعتماد انسان کو ایمان کے راستے سے دور کر سکتا ہے اور حتیٰ کہ انتہائی قریبی رشتے اور وابستگیاں بھی حقیقت کی جگہ نہیں لے سکتیں۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ سورۂ ممتحنہ کی ابتدائی آیات، قرآن اہل ایمان کی زندگی کے نہایت حسین پہلوؤں میں سے ایک پہلو پر روشنی ڈالتا ہے، جہاں جذباتی تعلق، رشتہ داری اور ذاتی مفادات ممکن ہے کہ انسان کو حقیقت اور ایمانی معاشرے کے مقابل کھڑا کر دیں۔

دوسری اور آخری قسط:

یہاں تک کہ قریب ترین رشتے بھی نجات دہندہ نہیں ہیں

تیسری آیت اس تنبیہ کا دائرہ دشمن سے تعلق سے بڑھا کر خاندانی تعلقات تک لے جاتی ہے "لَنْ تَنْفَعَكُمْ أَرْحَامُكُمْ وَلَا أَوْلَادُكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ"۔

رشتہ داری اور اولاد دنیا میں اپنی قدر اور مقام رکھتی ہے، مگر قیامت کے دن اصل معیار انسان کا عمل ہوگا۔ "يَفْصِلُ بَيْنَكُمْ"؛ اس دن خدا تمہارے درمیان فیصلہ اور جدائی کر دے گا اور "اللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ"۔

یہ نکتہ انسان کے جذباتی رشتوں کو ختم نہیں کرتا، بلکہ تنبیہ کرتا ہے کہ کوئی رشتہ اس حد تک نہ بڑھے کہ انسان کو حقیقت سے جدا کر دے۔

نمونۂ عمل اس جگہ تلاش کرو جہاں قیمت ادا کرنا پڑتی ہے

چوتھی آیت اچانک ایک تاریخی نمونہ پیش کرتی ہے "قَدْ كَانَتْ لَكُمْ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فِي إِبْرَاهِيمَ وَالَّذِينَ مَعَهُ"۔

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کے ساتھی جب اپنی قوم کے شرک کے مقابلے میں کھڑے ہوئے تو انہوں نے کہا کہ "إِنَّا بُرَآءُ مِنْكُمْ" ہم تم سے اور تمہارے ان معبودوں سے جنہیں 'تم خدا کے سوا' پوجتے ہو، بیزار ہیں۔ پھر انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ بیزاری اس وقت جاری رہے گی اور یہ فاصلہ اس وقت تک قائم رہے گا جب تک وہ خدائے واحد پر ایمان نہ لے آئیں۔

مگر قرآن ایک استثنیٰ کی یاددہانی بھی کراتا ہے: حضرت ابراہیمؑ کا اپنے باپ کے لئے مغفرت طلب کرنا۔ یہ استثنیٰ عیاں کرتا ہے کہ برائت (اور بیزاری) کے معاملے میں بھی آیات کو اپنے سیاق اور حدود سے الگ نہیں کرنا چاہئے۔

اس آیت کے آخر میں مؤمنین ایک بنیادی نکتے کی طرف لوٹتے ہیں "رَبَّنَا عَلَيْكَ تَوَكَّلْنَا وَإِلَيْكَ أَنَبْنَا وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ" یعنی جب انسان باطل کے ساتھ اپنی حدود کو نمایاں کر دیتا ہے تو اس کا آخری سہارا اللہ کی ذات ہوتی ہے، نہ کہ طاقت، رشتہ یا دنیاوی حساب کتاب۔

دوسری قسط | جہاں دشمن سے دوستی کرنے کی بھاری قیمت چکانا پڑتی ہے

ناکامی کا خوف، انسان کو حق کی راہ سے نہ ہٹا دے

پانچویں آیت اس دعا کو مکمل کرتی ہے "رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِلَّذِينَ كَفَرُوا وَاغْفِرْ لَنَا رَبَّنَا"۔

مؤمن خدا سے دعا کرتا ہے کہ ہمیں ایسا نہ بنا کہ ہماری شکست یا کمزوری دشمنوں کے لئے دستاویز اور آزمائش اور گمراہی کا باعث بن جائے۔ پھر اللہ سے مغفرت طلب کرتا ہے اور اسے "الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ" کہہ کر پکارتا ہے۔

ان پانچ آیات کا مجموعہ واضح ظاہر کرتا ہے کہ ایمان محض ایک اندرونی عقیدہ نہیں ہے، بلکہ انتخاب، تعلق، دوستی، اعتماد اور حتیٰ کہ دباؤ کی حالت میں بھی خود کو ظاہر کرتا ہے۔

المیزان کے نقطۂ نظر سے، اس حصے کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ مؤمن کو اپنے تعلقات میں حق و باطل کی حدود کو پہچان لینا چاہئے، ظاہری رشتوں کے دھوکے میں نہ آئے اور آخرکار ان تمام انتخابوں میں خدا ہی پر توکل کرے۔

دوسری قسط | جہاں دشمن سے دوستی کرنے کی بھاری قیمت چکانا پڑتی ہے

قرآن کریم کے صفحہ 549 پر مندرجہ ان آیات کریمہ کی تلاوت، دیکھئے اور سنئے:

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بقلم: مہدی احمد

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha