اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، نائجیریا کی اسلامی تحریک کے سربراہ شیخ ابراہیم زکزاکی نے 2015 کے سانحے کے بعد پہلی بار شہر زاریا میں عوامی ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کرتے ہوئے اپنے عزیز و اقارب، مقامی شخصیات اور عوام سے ملاقاتیں کیں۔
شیخ زکزاکی نے یہ دورہ 2015 میں نائجیریا کی حکومت کی جانب سے شیعہ مسلمانوں پر ہونے والے حملے اور اپنی گرفتاری کے بعد پہلی مرتبہ کیا۔
دورے کے دوران ان کی پہلی منزل زاریا کے علاقے اونگوار جوما میں مرحوم ملاّم قاسم، سابق امام جمعہ زاریا، کا گھر تھا، جہاں انہوں نے مرحوم کے اہل خانہ سے تعزیت کی اور ان کے لیے مغفرت، رحمت اور جنت الفردوس میں بلند درجات کی دعا کی۔ انہوں نے تمام مرحوم مؤمنین اور مؤمنات کے لیے بھی دعائے مغفرت کی۔
بعد ازاں شیخ زکزاکی علاقے کواربای پہنچے، جہاں انہوں نے مرحوم ملاّم موسیٰ کی قبر پر حاضری دی۔ مرحوم کو خطے میں شیخ عثمان دان فودیو کی اصلاحی تحریک کے علمبرداروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ شیخ زکزاکی نے ان کی دینی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔
انہوں نے زاریا کے علاقے جوشی میں اپنی مرحومہ والدہ کی قبر پر بھی حاضری دی، فاتحہ خوانی کی اور ان کی اخلاقی، سماجی اور دینی خدمات کو یاد کیا۔
یہ ملاقاتیں انتہائی پُرخلوص، روحانی اور محبت بھرے ماحول میں منعقد ہوئیں۔ اس موقع پر شیخ زکزاکی نے رشتہ داروں سے تعلقات مضبوط بنانے، سماجی اتحاد و یکجہتی کو فروغ دینے، بزرگوں کی عزت کرنے اور ان علماء و صالحین کی یاد کو زندہ رکھنے کی ضرورت پر زور دیا جنہوں نے اپنی زندگیاں اسلام اور معاشرے کی خدمت کے لیے وقف کیں۔
آپ کا تبصرہ