25 جولائی 2026 - 16:38
الحدیدہ میں سعودی حملوں کے خلاف ہزاروں افراد سڑکوں پر، بندرگاہوں پر حملوں کی شدید مذمت

یمن کے صوبہ الحدیدہ میں ہزاروں شہریوں نے احتجاجی مظاہرے کرتے ہوئے سعودی عرب کی جانب سے بندرگاہوں، شہری بنیادی ڈھانچے اور خدماتی مراکز پر حالیہ حملوں کی شدید مذمت کی۔ مظاہرین نے کہا کہ ان حملوں سے یمنی عوام کے عزم کو کمزور نہیں کیا جا سکتا اور مزاحمت جاری رہے گی۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، یمن کے صوبہ الحدیدہ میں نائب گورنر احمد البشری اور محمد حلیسی کی موجودگی میں منعقد ہونے والے بڑے احتجاجی اجتماعات میں شرکاء نے پلے کارڈز اٹھا کر الحدیدہ بندرگاہ، خدماتی مراکز اور جزیرہ کمران پر سعودی حملوں کی مذمت کی۔

مظاہرین نے کہا کہ شہری بنیادی ڈھانچے اور عوامی خدمات کے مراکز کو نشانہ بنانا اس پالیسی کا تسلسل ہے جس کا مقصد لاکھوں یمنی شہریوں کو بنیادی سہولتوں سے محروم کرنا ہے۔

احتجاج میں شریک افراد نے سعودی عرب کو خبردار کیا کہ بنیادی ڈھانچے اور خدماتی مراکز پر حملوں کا سلسلہ جاری رکھنے سے صرف اس کے لیے مزید سنگین نتائج پیدا ہوں گے، جبکہ اس سے یمنی عوام کے اتحاد، استقامت اور اپنی خودمختاری و سرزمین کے دفاع کے عزم میں مزید اضافہ ہوگا۔

احتجاج کے اختتامی اعلامیے میں بندرگاہوں اور عوامی خدمات کے مراکز پر حملوں کو یمن کے عوام کے خلاف محاصرے اور اجتماعی سزا کی پالیسی کا تسلسل قرار دیا گیا۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ شہری تنصیبات کو دانستہ نشانہ بنانا بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کے ضابطوں کی کھلی خلاف ورزی اور جنگی جرم ہے۔ شرکاء نے اقوام متحدہ اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ ان حملوں کو رکوانے اور ان کے ذمہ داران کو جوابدہ بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کریں۔

بیان میں اس عزم کا اظہار بھی کیا گیا کہ حالیہ حملے اہلِ الحدیدہ کو مزاحمت کے راستے سے نہیں ہٹا سکتے اور یہ کارروائیاں بغیر جواب کے نہیں رہیں گی۔

مظاہرین نے یمنی مسلح افواج سے مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے "محاصرے کے جواب میں محاصرہ، بندرگاہوں کے جواب میں بندرگاہیں، اور شدت کے جواب میں شدت" کی حکمت عملی جاری رکھنے کی حمایت کی اور زور دیا کہ محاصرے کے خاتمے اور جارحیت رکنے تک ہر ممکن کشیدگی کا مقابلہ کرنے کے لیے مکمل تیاری برقرار رکھی جائے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha