24 جولائی 2026 - 17:22
بحرین میں شیعیانِ اہل بیت(ع) پر جبر و تشدد کے خاتمے کا مطالبہ / قبیلۂ آل خلیفہ ملک کی تاریخی شناخت مٹا رہا ہے

بحرین کی تحریک آزادی نے ایک بیان میں اعلان کیا: آل خلیفہ حکومت نے شیعیان اہل بیت(ع) کے خلاف اپنے اقدامات شدیدتر کر دیئے ہیں اور مذہبی نسل کشی کا سہارا لئے ہوئے ہے۔ بحرین میں مذہبی اداروں، علمائے کرام، عزاداروں اور کارکنوں کے خلاف جابرانہ اقدامات کو شدیدتر ہو گئی ہے اور گذشتہ دو ہفتوں کے دوران درجنوں مقامی بحرینیوں کو گرفتار کر کے حراستی مراکز میں ٹارچر کیا گیا ہے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا - کے مطابق، بحرین کی تحریک آزادی نے ایک بیان میں اعلان کیا ہے کہ بحرین پر مسلط قبیلۂ آل خلیفہ کی حکومت نے مقامی آبادی اور شیعہ اکثریت کے خلاف اپنی جنگ جاری رکھی ہوئی ہے؛ اس نے حال ہی میں اعلان کیا ہے کہ وہ شیعوں کے اوقاف کے محکمے پر قبضہ کر لے گی، جو سو سال پرانا ہے۔

قبیلۂ آل خلیفہ نے اکتوبر 2024 سے 'الدراز' شہر کی 'مسجد الصادق(ع)' میں مرکزی نماز جمعہ پر بھی پابندی لگا دی ہے؛ چنانچہ مقامی لوگ اب اپنے دفاع کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے ہیں اور عالمی برادری سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ ثقافتی نسل کشی کو روکنے کے لئے کارروائی کرے۔

بحرینی عوام نے خاص طور پر، اقوام متحدہ کے نسل کشی ایکٹ کے آرٹیکل 2 کے تحت اقدام کا مطالبہ کیا ہے اور واشنگٹن اور لندن سے ـ جو بحرین کی آل خلیفہ قبائلی حکومت کے محافظ ہیں ـ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس مذہبی نسل کشی کو روکنے کے لئے کارروائی کریں۔

تحریک آزادی بحرین نے اپنے بیان میں کہا ہے: خاموشی کوئی مناسب آپشن نہیں ہے، کیونکہ مقامی لوگ خود کو قابض و غاصب آل خلیفہ قبیلے کے ہدف (Target) کے طور پر دیکھتے ہیں جو طویل عرصے سے ملک کی تاریخی شناخت کو مٹانے کی کوشش کر رہا ہے۔

بحرین میں مذہبی اداروں، علمائے کرام، عزاداروں اور کارکنوں کے خلاف حالیہ کریک ڈاؤن میں شدت آئی ہے، گذشتہ دو ہفتوں کے دوران درجنوں مقامی بحرینیوں کو گرفتار کیا گیا اور حراستی مراکز میں ٹارچر کیا گیا۔

حالیہ کریک ڈاؤن ایران پر امریکی حملے کے فوراً بعد شروع ہؤا اور اس میں مردوں، عورتوں، بچوں، مذہبی اسکالرز، سوگواروں، گلوکاروں، بلاگرز، صحافیوں اور کھلاڑیوں کو نشانہ بنایا گیا۔

چند روز قبل بدنام زمانہ "جو" جیل کے اندر ایک ٹیلی فون بوتھ میں سیاسی قیدی 'احمد جعفر' پر حملہ کر کے شدید زخمی کر دیا گیا تھا۔ حملہ آور بظاہر دو عام قیدی تھے جنہیں ممکنہ طور پر حملہ کرنے کے لئے کہا گیا تھا۔ 'احمد جعفر' کو ولندیزی حکام نے تین سال قبل ایک ایسے فیصلے میں آل خلیفہ کے حوالے کیا تھا جس پر یورپی پارلیمنٹ نے تنقید کی تھی اور اس کی وجہ سے ہالینڈ کی ساکھ داغدار ہوگئی تھی۔

اس ہفتے آل خلیفہ کی ایک نام نہاد عدالت نے 'سماہیج' شہر سے تعلق رکھنے والے دو نابالغ بحرینیوں کو طویل قید کی سزا سنائی ہے۔ 'مہدی المؤذن' کو دو الگ الگ مقدمات میں چھ سال قید کی سزا سنائی گئی تھی جبکہ 'علی حسین الحیکی' کو ایک کیس میں تین سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ ان دونوں افراد کو منامہ میں امام حسین (علیہ السلام) کی شہادت کے ایام میں ایک مذہبی مجلس کے اختتام پر گرفتار کیا گیا تھا۔

عدالت نے ایک دوسرے بحرینی باشندے کو دو سال قید اور جرمانے کی سزا بھی سنائی۔ 'احمد النجار' پر بغیر لائسنس کے مذہبی ماتمی جلوس کی کال دینے کا الزام عائد کیا گیا تھا، اور کئی دوسرے نوجوانوں کو مذہبی جلوس میں شرکت کرنے پر گرفتار کیا گیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha