24 جولائی 2026 - 17:30
امریکی صدر نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا

رپورٹ کے مطابق ڈیل کی مدت 30 سال اور تخمینہ کئی ارب ڈالر ہوگا، معاہدے کے تحت سعودی عرب کو توانائی کے شعبے میں جوہری ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہوگی، ڈیل سے ممکنہ طور پر سعودی عرب میں یورینیم افزودگی کی راہ بھی ہموار ہو سکےگی۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان جو سول جوہری معاہدہ طے کیا جا رہا ہے، اس میں کسی بھی قسم کی یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں ہوگی۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا، بالکل ویسا ہی جیسے ایران، متحدہ عرب امارات اور بعض دیگر ممالک کے پاس موجود سول جوہری پروگرام ہیں۔

امریکی صدر نے واضح کیا کہ اس معاہدے کی منظوری دی جائے گی لیکن اس کی ایک بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت، کامیاب اور نہایت قابل احترام معاہدہ ابراہیمی (Abraham Accords) میں شامل ہو۔

ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ امریکا کو پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جانے والے ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں، بشرطیکہ ان میں یورینیم کی افزودگی نہ کی جائے۔

اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب کا معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہونا مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ثابت ہوگا۔

ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا کہ ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی مشترکہ فوجی کارروائی اور ایران کے حمایت یافتہ دہشت گرد نیٹ ورک کو اسرائیل کی جانب سے شدید نقصان پہنچانےکے بعد اب امن کے دائرے کو مزید وسیع کرنےکا ایک نیا موقع پیدا ہوگیا ہے۔

تاہم اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدےکا کوئی ذکر نہیں کیا۔

امریکا اور سعودی عرب میں سول جوہری پروگرام کا معاہدہ

خیال رہےکہ امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ امریکی صدر ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ سول جوہری پروگرام کے معاہدے کی باضابطہ منظوری دے دی ہے اور اب اسے کانگریس کی منظوری درکار ہے۔

رپورٹ کے مطابق ڈیل کی مدت 30 سال اور تخمینہ کئی ارب ڈالر ہوگا، معاہدے کے تحت سعودی عرب کو توانائی کے شعبے میں جوہری ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہوگی، ڈیل سے ممکنہ طور پر سعودی عرب میں یورینیم افزودگی کی راہ بھی ہموار ہو سکےگی۔

رپورٹ کے مطابق اس تجویز پر کئی برسوں سے بات چیت جاری تھی۔ ایک مرحلے پر بائیڈن انتظامیہ چاہتی تھی کہ سعودی عرب کو یہ ٹیکنالوجی صرف اس صورت میں دی جائے جب وہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لائے، تاہم سعودی عرب اب بھی اس شرط کو قبول کرنے پر آمادہ نہیں۔

امریکا اور سعودی عرب کے سول جوہری معاہدے پر اسرائیل میں تشویش

دوسری جانب اسرائیلی اپوزیشن نے معاہدے کو اسرائیل کے لیے اسٹریٹیجک تباہی قرار دیا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha