بحرین کی تحریک آزادی نے ایک بیان میں اعلان کیا: آل خلیفہ حکومت نے شیعیان اہل بیت(ع) کے خلاف اپنے اقدامات شدیدتر کر دیئے ہیں اور مذہبی نسل کشی کا سہارا لئے ہوئے ہے۔ بحرین میں مذہبی اداروں، علمائے کرام، عزاداروں اور کارکنوں کے خلاف جابرانہ اقدامات کو شدیدتر ہو گئی ہے اور گذشتہ دو ہفتوں کے دوران درجنوں مقامی بحرینیوں کو گرفتار کر کے حراستی مراکز میں ٹارچر کیا گیا ہے۔
امارات اور بحرین اپنی تمام تر زدپذیریوں اور ایران کی طرف سے بالکل جائز انتقامی کاروائیوں کے امکان کے باوجود، جنگ بندی کے بعد بھی ایران کے خلاف اپنی ریشہ دوانیاں جاری رکھے ہوئے ہیں؛ گویا انہیں اندازہ نہیں ہے کہ جس طرح کہ امریکیوں اور صہیونیوں نے جنگ کے دوران ان کی سرزمینوں کو اپنے عزائم کے لئے استعمال کیا اور ان کی حفاظت کا وعدہ بھول گئے، جنگ کے خاتمے کے بعد بھی ان کی مدد کو نہیں آئیں گے، حالانکہ یہ ایک حقیقت ہے کہ جنگ کے مکمل خاتمے کے بعد وہ پھر بھی ایران کے پڑوسی رہیں گے، کیونکہ دوست اور دشمن کو بدلا جا سکتا ہے لیکن پڑوسی کو ہرگز نہیں۔
امارات اور بحرین اپنی تمام تر زدپذیریوں اور ایران کی طرف سے بالکل جائز انتقامی کاروائیوں کے امکان کے باوجود، جنگ بندی کے بعد بھی ایران کے خلاف اپنی ریشہ دوانیاں جاری رکھے ہوئے ہیں؛ گویا انہیں اندازہ نہیں ہے کہ جس طرح کہ امریکیوں اور صہیونیوں نے جنگ کے دوران ان کی سرزمینوں کو اپنے عزائم کے لئے استعمال کیا اور ان کی حفاظت کا وعدہ بھول گئے، جنگ کے خاتمے کے بعد بھی ان کی مدد کو نہیں آئیں گے، حالانکہ یہ ایک حقیقت ہے کہ جنگ کے مکمل خاتمے کے بعد وہ پھر بھی ایران کے پڑوسی رہیں گے، کیونکہ دوست اور دشمن کو بدلا جا سکتا ہے لیکن پڑوسی کو ہرگز نہیں۔
جنیوا میں اقوام متحدہ کے دفتر کے لیے ایران کے مستقل نمائندے علی بحرینی نے کہا ہے کہ ایران جنگ نہیں کر رہا بلکہ اپنے ملک کا دفاع کر رہا ہے اور یہ دفاع اس وقت تک جاری رہے گا جب تک خطرہ مکمل طور پر ختم نہیں ہو جاتا۔