آل خلیفہ اور بحرین
-
بحرین میں ناکام پالیسیوں کا تسلسل؛ نئے بحرانوں کے لیے پرانے نسخے آزمانے کا الزام
منامہ — بحرین کی حکومت کے ناقدین کا کہنا ہے کہ 2011 کے بعد اختیار کی گئی سخت سیاسی اور سکیورٹی پالیسیوں نے ملک کے مسائل حل کرنے کے بجائے عوام اور حکومت کے درمیان خلیج مزید گہری کر دی ہے، جبکہ نئے حکومتی منصوبے بھی اصلاحات کے بجائے بحران سے نمٹنے میں حکمران نظام کی بے سمتی ظاہر کر رہے ہیں۔
-
بحرین میں حکومت اور شیعہ عوام کے درمیان دوریاں بڑھنے لگیں، مذہبی سرگرمیوں پر پابندیاں بڑھنے کا خدشہ
منامہ: بحرین میں سیاسی و سکیورٹی دباؤ اور شیعہ مذہبی سرگرمیوں کی نگرانی میں اضافے نے حکومت اور ملک کی بڑی شیعہ آبادی کے درمیان بڑھتے فاصلے پر ایک بار پھر تشویش پیدا کردی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ منامہ کی جانب سے مخالفین اور شیعہ برادری کے خلاف پابندیوں کا سلسلہ جاری ہے جس سے داخلی کشیدگی میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
-
بحرین میں درجنوں شیعہ علما کا مقدمہ جاری، الزامات پر شکوک و شبہات، دباؤ بڑھنے کا خدشہ
بحرین میں درجنوں شیعہ علما اور مذہبی شخصیات کے خلاف مقدمے کی کارروائی جاری ہے، تاہم عدالتی سماعتوں کے طریقہ کار، گواہوں کے بیانات اور عائد کیے گئے الزامات کے حوالے سے مختلف سوالات اور اعتراضات سامنے آئے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ بعض الزامات کے لیے پیش کیے جانے والے شواہد کافی نہیں اور شفاف و منصفانہ عدالتی کارروائی کی ضرورت ہے۔
-
’’مرآۃ البحرین‘‘: بحرین کی اوقاف شیعہ امور میں حکومتی مداخلت بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے
بحرینی ویب سائٹ ’’مرآۃ البحرین‘‘ نے حکومت کی مذہبی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ محکمہ اوقاف شیعہ، حسینیوں کے انتظامی امور میں حکومتی مداخلت بڑھانے اور ان کے انتظامی بورڈز کی تشکیل کو سکیورٹی اداروں کی نگرانی میں دینے کی کوشش کر رہا ہے۔
-
بحرینی شیعہ شہری عبداللہ مطر کی تدفین؛ عوام کا آلِ خلیفہ کے کردار کی تحقیقات کا مطالبہ
بحرین میں شیعہ شہری عبداللہ مطر کی نمازِ جنازہ اور تدفین میں بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔ عوام نے اس واقعے کی مکمل تحقیقات اور عبداللہ مطر کی موت میں آلِ خلیفہ حکومت کے ممکنہ کردار کو واضح کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
-
بحرین پر قابض قبیلے کے جرائم
بحرین میں شیعیانِ اہل بیت(ع) پر جبر و تشدد کے خاتمے کا مطالبہ / قبیلۂ آل خلیفہ ملک کی تاریخی شناخت مٹا رہا ہے
بحرین کی تحریک آزادی نے ایک بیان میں اعلان کیا: آل خلیفہ حکومت نے شیعیان اہل بیت(ع) کے خلاف اپنے اقدامات شدیدتر کر دیئے ہیں اور مذہبی نسل کشی کا سہارا لئے ہوئے ہے۔ بحرین میں مذہبی اداروں، علمائے کرام، عزاداروں اور کارکنوں کے خلاف جابرانہ اقدامات کو شدیدتر ہو گئی ہے اور گذشتہ دو ہفتوں کے دوران درجنوں مقامی بحرینیوں کو گرفتار کر کے حراستی مراکز میں ٹارچر کیا گیا ہے۔
-
آل خلیفہ کی استبدادیت
حصۂ دوئم | اسرائیلی-امریکی غلامی کا عملی اظہار؛ ایران پر الزامات اور شیعہ علماء کی گرفتاری + نکتہ
امارات اور بحرین اپنی تمام تر زدپذیریوں اور ایران کی طرف سے بالکل جائز انتقامی کاروائیوں کے امکان کے باوجود، جنگ بندی کے بعد بھی ایران کے خلاف اپنی ریشہ دوانیاں جاری رکھے ہوئے ہیں؛ گویا انہیں اندازہ نہیں ہے کہ جس طرح کہ امریکیوں اور صہیونیوں نے جنگ کے دوران ان کی سرزمینوں کو اپنے عزائم کے لئے استعمال کیا اور ان کی حفاظت کا وعدہ بھول گئے، جنگ کے خاتمے کے بعد بھی ان کی مدد کو نہیں آئیں گے، حالانکہ یہ ایک حقیقت ہے کہ جنگ کے مکمل خاتمے کے بعد وہ پھر بھی ایران کے پڑوسی رہیں گے، کیونکہ دوست اور دشمن کو بدلا جا سکتا ہے لیکن پڑوسی کو ہرگز نہیں۔
-
آل خلیفہ کی استبدادیت
حصۂ اول اسرائیلی-امریکی غلامی کا عملی اظہار: ایران پر الزامات اور شیعہ علماء کی گرفتاری + نکتہ
امارات اور بحرین اپنی تمام تر زدپذیریوں اور ایران کی طرف سے بالکل جائز انتقامی کاروائیوں کے امکان کے باوجود، جنگ بندی کے بعد بھی ایران کے خلاف اپنی ریشہ دوانیاں جاری رکھے ہوئے ہیں؛ گویا انہیں اندازہ نہیں ہے کہ جس طرح کہ امریکیوں اور صہیونیوں نے جنگ کے دوران ان کی سرزمینوں کو اپنے عزائم کے لئے استعمال کیا اور ان کی حفاظت کا وعدہ بھول گئے، جنگ کے خاتمے کے بعد بھی ان کی مدد کو نہیں آئیں گے، حالانکہ یہ ایک حقیقت ہے کہ جنگ کے مکمل خاتمے کے بعد وہ پھر بھی ایران کے پڑوسی رہیں گے، کیونکہ دوست اور دشمن کو بدلا جا سکتا ہے لیکن پڑوسی کو ہرگز نہیں۔
-
ہم جنگ نہیں اپنے ملک کا دفاع کر رہے ہیں:ایران
جنیوا میں اقوام متحدہ کے دفتر کے لیے ایران کے مستقل نمائندے علی بحرینی نے کہا ہے کہ ایران جنگ نہیں کر رہا بلکہ اپنے ملک کا دفاع کر رہا ہے اور یہ دفاع اس وقت تک جاری رہے گا جب تک خطرہ مکمل طور پر ختم نہیں ہو جاتا۔
-
بحرین کے حریت پسند عوام؛
امریکیوں کو خوش کرنے کے لئے بحرینی نوجوان کا المناک قتل
سید محمد الموسوی کی شہادت نے بحرین میں آل خلیفہ کی ناجائز حکومت کی سرنگونی کے لئے، عوامی احتجاجات کو شدت اور وسعت بخشی ہے۔