اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مندوب امیر سعید ایروانی نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریش اور سلامتی کونسل کے صدر کو ایک خط ارسال کرتے ہوئے یمن کو اسلحہ منتقل کرنے اور انصار اللہ کی رہنمائی سے متعلق امریکی الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔
ایروانی نے اپنے خط میں کہا کہ یہ دعویٰ کہ انصار اللہ ایران کی ہدایات پر عمل کرتی ہے، مکمل طور پر بے بنیاد ہے۔ ان کے مطابق صنعاء کی قیادت یمن کے ایک بڑے طبقے کی نمائندگی کرتی ہے اور اپنے فیصلے آزادانہ طور پر، یمنی عوام کے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے کرتی ہے۔
ایرانی مندوب نے کہا کہ یمن کو اسلحہ منتقل کرنے سے متعلق امریکی الزامات کے حق میں کوئی قابلِ اعتماد یا قابلِ تصدیق ثبوت موجود نہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ واشنگٹن ایسے دعوؤں کے ذریعے خطے میں اپنی پالیسیوں اور اقدامات سے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہا ہے۔
خط میں کہا گیا ہے کہ ایران ہمیشہ یمن کے مسئلے کے سیاسی، جامع اور یمنی قیادت میں اقوام متحدہ کی نگرانی میں حل کی حمایت کرتا آیا ہے اور وہ یمن کی خودمختاری، آزادی، وحدت اور علاقائی سالمیت کی حمایت جاری رکھے گا۔
امیر سعید ایروانی نے امریکہ کے اس دعوے کو بھی مسترد کیا کہ وہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی پاسداری کر رہا ہے۔ ان کے مطابق امریکہ نے معاہدے پر دستخط کے فوراً بعد ہی اس کی خلاف ورزیاں شروع کر دیں اور اب تک مسلسل اپنی ذمہ داریوں سے انحراف کرتا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران اس سے قبل بھی اقوام متحدہ کو ایک خط کے ذریعے امریکہ کی جانب سے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی متعدد مبینہ خلاف ورزیوں کی تفصیلات فراہم کر چکا ہے، جن کے باعث علاقائی استحکام اور بین الاقوامی امن متاثر ہوا ہے۔
ایرانی مندوب نے اپنے خط میں مزید مؤقف اختیار کیا کہ امریکہ خود جارحیت کا مرتکب ہے، نہ کہ اس کا شکار۔ ان کے مطابق امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کے ذریعے اقوام متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے، جبکہ شہری آبادی اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانا جنگی جرائم کے زمرے میں آتا ہے۔
انہوں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ امریکہ کی حالیہ فوجی کارروائیوں نے خطے میں کشیدگی میں اضافہ کیا، سفارتی کوششوں کو نقصان پہنچایا اور آبنائے ہرمز میں سلامتی کی صورتحال کو بھی متاثر کیا۔
ایروانی نے اپنے خط کے اختتام پر کہا کہ ایسے حالات میں امریکہ کو ایران یا کسی دوسرے رکن ملک کے خلاف الزامات عائد کرنے کا کوئی قانونی، سیاسی یا اخلاقی جواز حاصل نہیں۔
آپ کا تبصرہ