اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، یمن کی اعلیٰ عدالتی کونسل کے رکن اور انصار اللہ کی سیاسی قیادت سے وابستہ قاضی عبدالوہاب المحبشی نے کہا ہے کہ ایران حالیہ جنگ کے بعد پہلے سے زیادہ مضبوط ہو کر ابھرا ہے، جبکہ شہید امام سید علی خامنہ ای کی آخری رسومات میں عوام کی بڑی شرکت ایران کے نظام اور اسلامی انقلاب کی حمایت کا ایک عوامی ریفرنڈم ثابت ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ آخری رسومات میں عوام کی بڑی تعداد میں شرکت نے اسلامی انقلاب اور مزاحمتی محاذ کے حق میں واضح پیغام دیا کہ فلسطین کے مسئلے اور مزاحمت کی حمایت آج بھی امت مسلمہ کے ایک بڑے طبقے کے لیے اہم ہے۔
المحبشی کے مطابق، شہید رہنما کی آخری رسومات میں شریک عوامی اجتماع نے 1989 میں امام خمینیؒ کی تشییع کی یاد تازہ کر دی۔ انہوں نے کہا کہ جدید ذرائع ابلاغ کی بدولت دنیا بھر کے لوگوں نے ان مناظر کو براہِ راست دیکھا اور عوامی شرکت کا مشاہدہ کیا۔
انہوں نے امریکہ اور اسرائیل پر الزام عائد کیا کہ شہید رہنما کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قوانین اور انسانی اقدار کی خلاف ورزی ہے، اور کہا کہ اس اقدام کے نتائج مستقبل میں سامنے آئیں گے۔
یمنی عہدیدار نے مزید کہا کہ شہید رہنما نے خطرات کے باوجود پناہ لینے کے بجائے عوام کے درمیان رہنے کو ترجیح دی۔ ان کے بقول، ایرانی عوام کے صبر، استقامت اور نظریاتی وابستگی نے ملک کو مزید مضبوط بنایا ہے۔
قاضی المحبشی نے کہا کہ ایران کی طاقت صرف عسکری صلاحیت، میزائلوں، ڈرونز یا جوہری پروگرام میں نہیں بلکہ عوامی حمایت اور نظریاتی وابستگی میں مضمر ہے۔ ان کے مطابق، حالیہ جنگ کے بعد ایران مزید مستحکم ہوا ہے اور فلسطین کے مسئلے پر حمایت میں بھی اضافہ ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ ایران، یمن، حزب اللہ اور دیگر مزاحمتی گروہ فلسطین کی حمایت کو اپنی مشترکہ ذمہ داری سمجھتے ہیں اور اسلامی ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ فلسطینی عوام کے ساتھ کھڑے ہوں۔
آپ کا تبصرہ