30 جون 2026 - 11:59
مآخذ: ابنا
 آبنائے ہرمز کے لیے نئے انتظامی نظام کی ضرورت ہے:ایرانی نائب وزیر خارجہ

ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کی موجودہ صورتحال حساس مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، اس لیے اس اہم آبی گزرگاہ کے لیے ایک نئے انتظامی نظام کی ضرورت ہے جو علاقائی حقائق اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق ہو۔

اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق،ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کی موجودہ صورتحال حساس مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، اس لیے اس اہم آبی گزرگاہ کے لیے ایک نئے انتظامی نظام کی ضرورت ہے جو علاقائی حقائق اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق ہو۔

رپورٹ کے مطابق کاظم غریب آبادی نے کہا کہ حالیہ دنوں میں آبنائے ہرمز سے متعلق مختلف فریقوں کی جانب سے متضاد تشریحات اور بعض اقدامات دیکھنے میں آئے ہیں، جس کے پیش نظر ایران پہلے ہی اپنی پالیسی واضح کر چکا ہے کہ اس آبی گزرگاہ کے انتظام کے لیے نئی حکمت عملی اختیار کی جانی چاہیے۔

انہوں نے واضح کیا کہ اس سے قبل نہ ایران اور نہ ہی عمان کے درمیان آبنائے ہرمز کے انتظام سے متعلق کوئی باقاعدہ انتظامی ڈھانچہ موجود تھا، تاہم حالیہ جنگ نے ثابت کر دیا کہ ایران کے تحمل کی بھی ایک حد ہے اور جارحیت کرنے والے عناصر ایران کے صبر کو کمزوری نہ سمجھیں۔

غریب آبادی نے کہا کہ آبنائے ہرمز ایک انتہائی اہم اسٹریٹجک گزرگاہ ہے جہاں سے عالمی معیشت اور توانائی کی ترسیل کا بڑا حصہ گزرتا ہے، اس لیے اس کی سلامتی اور انتظام نہایت اہمیت کے حامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایران بین الاقوامی قوانین اور اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کا احترام کرتا ہے، لیکن قومی سلامتی کو ہر صورت مقدم رکھا جائے گا۔

نائب وزیر خارجہ کے مطابق مفاہمتی یادداشت کی شق نمبر پانچ کے تحت 30 روزہ عبوری مدت میں ایران تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت کو یقینی بنائے گا، جبکہ سمندری بارودی سرنگوں (مائنز) کی صفائی صرف ایران انجام دے گا۔

انہوں نے بتایا کہ منجمد ایرانی اثاثوں کے معاملے پر ایرانی ماہرین آئندہ دو روز کے دوران دوحہ میں قطری ثالثی کے ذریعے پیش رفت کا جائزہ لیں گے۔

غریب آبادی نے کہا کہ مفاہمتی یادداشت کے بعض حصوں پر عمل درآمد جاری ہے، تاہم لبنان کے حوالے سے معاہدے کی خلاف ورزیاں دیکھی جا رہی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ لبنان میں جنگ کا خاتمہ کیا جائے اور اسرائیلی افواج وہاں سے واپس جائیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران نے مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کی نگرانی کے لیے ایک خصوصی ورکنگ گروپ تشکیل دیا ہے، جو تمام خلاف ورزیوں کا جائزہ لے رہا ہے۔ ان کے مطابق اگر ضروری شرائط پوری ہوئیں تو مختلف ورکنگ گروپس مذاکرات کا آغاز کریں گے۔

کاظم غریب آبادی نے واضح کیا کہ دوحہ میں ایران اور امریکہ کے درمیان کسی بھی قسم کے براہِ راست مذاکرات کا کوئی پروگرام نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ امریکی حکام دوحہ جائیں گے، تاہم ایرانی ماہرین کا دورہ صرف قطری ثالثی کے ذریعے مفاہمتی یادداشت پر عمل درآمد کا جائزہ لینے کے لیے ہوگا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha