7 جون 2026 - 18:13
آبنائے ہرمز کی بندش نے عالمی معیشت کو کیسے متاثر کیا؟

آبنائے ہرمز کی بندش توانائی، خوراک اور ادویات کے عالمی بحران کا سبب بن سکتی ہے۔ ایک نئی رپورٹ میں عالمی سپلائی چین کے ممکنہ انہدام کے خطرات پر روشنی ڈالی گئی ہے۔

اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق،آبنائے ہرمز کی بندش توانائی، خوراک اور ادویات کے عالمی بحران کا سبب بن سکتی ہے۔ ایک نئی رپورٹ میں عالمی سپلائی چین کے ممکنہ انہدام کے خطرات پر روشنی ڈالی گئی ہے۔

اقتصادی ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز صرف تیل کی گزرگاہ نہیں بلکہ عالمی توانائی، غذائی تحفظ اور صنعتی سپلائی چین کی شہ رگ ہے۔ یہ سمندری راستہ صرف 33 کلومیٹر چوڑا ہے جبکہ محفوظ جہاز رانی کا حصہ 6 کلومیٹر سے بھی کم ہے، لیکن اس کے باوجود دنیا کی بڑی معیشتیں اسی راستے پر انحصار کرتی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق خلیج فارس میں دنیا کے تقریباً نصف ثابت شدہ تیل کے ذخائر موجود ہیں اور روزانہ تقریباً 2 کروڑ بیرل تیل اس راستے سے عالمی منڈیوں تک پہنچتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ متبادل راستے محدود ہیں۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی چند پائپ لائنیں مجموعی طور پر اتنی گنجائش نہیں رکھتیں کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تمام تیل کی ترسیل جاری رکھ سکیں۔

چین، بھارت، جاپان اور جنوبی کوریا اس راستے پر سب سے زیادہ انحصار کرتے ہیں۔ صرف چین نے 2024 میں 142 ارب ڈالر سے زائد مالیت کا تیل اس راستے سے درآمد کیا جبکہ بھارت کی درآمدات 102 ارب ڈالر سے زیادہ رہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عالمی گیس تجارت بھی شدید متاثر ہوگی کیونکہ دنیا کی تقریباً 25 فیصد ایل این جی تجارت آبنائے ہرمز سے گزرتی ہے۔ قطر اس شعبے میں اہم کردار ادا کرتا ہے اور اس راستے کی بندش سے بجلی گھروں، پیٹروکیمیکل صنعت اور شہری گیس فراہمی میں بحران پیدا ہو سکتا ہے۔

اسی طرح عالمی ڈیزل، جیٹ فیول اور پیٹروکیمیکل مصنوعات کی ترسیل بھی متاثر ہوگی جس سے فضائی سفر، سامان کی نقل و حمل اور صنعتی پیداوار کی لاگت میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔

رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ عالمی غذائی تحفظ بھی خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ یوریا، امونیا اور گندھک جیسی کھادوں کی بڑی مقدار اسی راستے سے گزرتی ہے۔ ان اشیا کی قلت سے گندم، چاول، مکئی اور دیگر زرعی اجناس کی قیمتیں عالمی سطح پر بڑھ سکتی ہیں۔

ادویات کی صنعت بھی متاثر ہوگی کیونکہ بھارت سمیت کئی ممالک دواؤں کی تیاری کے لیے خلیجی پیٹروکیمیکل خام مال پر انحصار کرتے ہیں۔ سپلائی میں رکاوٹ عالمی سطح پر ادویات کی قلت پیدا کر سکتی ہے۔

رپورٹ کے مطابق قطر دنیا کی ایک تہائی ہیلیم گیس فراہم کرتا ہے، جو ایم آر آئی مشینوں، کمپیوٹر چپس اور مصنوعی ذہانت کے ڈیٹا سینٹرز کے لیے ضروری ہے۔ اس گیس کی فراہمی رکنے سے جدید ٹیکنالوجی اور طبی شعبہ شدید متاثر ہو سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش کا اثر صرف مشرق وسطیٰ تک محدود نہیں رہے گا بلکہ ایشیا سے شروع ہونے والا معاشی بحران سپلائی چین کے ذریعے یورپ اور امریکہ تک پھیل سکتا ہے، جس سے عالمی مہنگائی اور اقتصادی سست روی میں اضافہ ہوگا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha