اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق،ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایرانی قوم کی ثابت قدمی، مسلح افواج کی قربانیوں اور عوام کے بھرپور تعاون نے ایران کو عالمِ اسلام اور دنیا کے آزادی پسندوں کے درمیان عزت و وقار عطا کیا ہے۔
ایرانی خبر رساں ادارے کے مطابق صدر پزشکیان نے اپنے دورۂ قم کے دوران جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم کے ارکان سے دو گھنٹے سے زائد جاری رہنے والی تفصیلی نشست میں گزشتہ دو برسوں کے دوران ملک کو درپیش چیلنجز، خطرات اور حکومتی اقدامات پر روشنی ڈالی۔
صدر نے حالیہ جنگ میں شہید ہونے والوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ مشکل حالات میں ایرانی عوام کی قومی یکجہتی، مسلح افواج کی جرات مندانہ دفاعی کارروائیاں اور مختلف طبقات کا تعاون ایران کی تاریخ کا ایک سنہرا باب ہے۔
انہوں نے کہا کہ دشمنوں نے ملک میں عدم استحکام پیدا کرنے اور عوامی زندگی کو متاثر کرنے کی بھرپور کوشش کی، مگر ایرانی عوام نے اتحاد، ذمہ داری اور شعوری کردار کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان تمام سازشوں کو ناکام بنا دیا۔
پزشکیان نے بتایا کہ گزشتہ دو برسوں میں حکومت کی بڑی توانائیاں مختلف بحرانوں سے نمٹنے، بیرونی دباؤ کے اثرات کم کرنے اور ان کے عوامی زندگی پر منفی اثرات روکنے پر صرف ہوئیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے توانائی کے شعبے کی بہتری، بنیادی ڈھانچے کی ترقی، عوامی فلاحی منصوبوں، تعلیمی انصاف، نظامِ صحت کی مضبوطی، جنگ سے متاثرہ علاقوں کی بحالی، پیداوار کے فروغ اور دفاعی صلاحیت میں اضافے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں۔
صدر ایران نے "محلہ محوری" کو حکومت کی اہم سماجی حکمتِ عملی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد عوام کو فیصلہ سازی اور ترقیاتی منصوبوں میں زیادہ مؤثر انداز میں شریک کرنا ہے۔
انہوں نے حالیہ مذاکرات اور معاہدے کے حوالے سے کہا کہ تمام مراحل ملکی پالیسیوں، قانونی تقاضوں اور رہبرِ انقلاب کی مکمل رہنمائی و مشاورت کے تحت طے کیے گئے، جبکہ قومی سلامتی کونسل نے بھی معاہدے کی بھرپور حمایت کی۔
پزشکیان نے واضح کیا کہ ایران نے مذاکرات میں ہمیشہ قومی مفادات، عزت اور خودمختاری کو مقدم رکھا اور کسی بھی بیرونی دباؤ یا مسلط کردہ مطالبات کو قبول نہیں کیا۔
انہوں نے بعض سیاسی حلقوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مذاکراتی ٹیم اور قومی فیصلوں کو نشانہ بنانا دراصل ملک کے سفارتی کامیابیوں کو کمزور کرنے کی کوشش ہے۔
اقتصادی امور پر گفتگو کرتے ہوئے صدر نے کہا کہ سبسڈی کے نظام میں اصلاحات کے نتیجے میں بدعنوانی اور ذخیرہ اندوزی پر قابو پانے میں مدد ملی، جبکہ سخت معاشی حالات کے باوجود ضروری اشیائے خور و نوش کی فراہمی متاثر نہیں ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران اپنے قومی حقوق، بنیادی اصولوں اور مفادات پر کسی صورت سمجھوتہ نہیں کرے گا اور امریکہ و صہیونی حکومت کی جانب سے ایرانی عوام کے خلاف مبینہ جرائم کے قانونی تعاقب کے لیے تمام داخلی اور بین الاقوامی ذرائع استعمال کیے جائیں گے۔
ثقافتی مسائل کے حوالے سے صدر پزشکیان نے کہا کہ معاشرتی اور اخلاقی اقدار کی مضبوطی ایک طویل تربیتی عمل ہے۔ انہوں نے تعلیمی نظام میں اصلاحات اور بچوں و نوجوانوں کی بہتر تربیت کو حکومت کی ترجیحات میں شامل قرار دیا اور علمائے کرام و حوزہ ہائے علمیہ پر زور دیا کہ وہ معاشرے میں اخلاقی اقدار کے فروغ کے لیے اپنا مؤثر کردار ادا کریں۔
آپ کا تبصرہ