23 جون 2026 - 14:29
مآخذ: ابنا
امریکہ اور اسرائیل کے اختلافات صرف ظاہری اور حکمتِ عملی کی حد تک ہیں

مغربی ایشیا کے امور کے ماہر سید رضا صدرالحسینی نے کہا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ مفاہمت کے حوالے سے واشنگٹن اور تل ابیب کے درمیان کوئی بنیادی یا تزویراتی اختلاف موجود نہیں، البتہ بعض معاملات میں حکمتِ عملی اور طریقۂ کار پر اختلافات سامنے آ سکتے ہیں۔

اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، مغربی ایشیا کے امور کے ماہر سید رضا صدرالحسینی نے کہا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ مفاہمت کے حوالے سے واشنگٹن اور تل ابیب کے درمیان کوئی بنیادی یا تزویراتی اختلاف موجود نہیں، البتہ بعض معاملات میں حکمتِ عملی اور طریقۂ کار پر اختلافات سامنے آ سکتے ہیں۔

تسنیم نیوز ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے لبنان پر اسرائیلی حملوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت اور مفاہمت کے باوجود لبنان میں عسکری اور سکیورٹی صورتحال کشیدہ رہی۔ ان کے مطابق اسرائیل کی جانب سے یہ کوشش واضح طور پر دیکھی جا رہی ہے کہ وہ مزاحمتی محاذوں پر جنگ کے خاتمے سے متعلق مفاہمت کے دائرے سے خود کو الگ ظاہر کرے۔

صدرالحسینی نے کہا کہ اسرائیل اس مفاہمت کو اپنے لیے نقصان دہ سمجھتا ہے، خصوصاً اس شق کو جس میں مزاحمتی محاذوں پر جنگ کے خاتمے کی بات کی گئی ہے۔ اسی وجہ سے گزشتہ دنوں اسرائیلی سیاسی جماعتوں، فوجی حکام اور حکومتی شخصیات کی جانب سے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو پر شدید دباؤ ڈالا گیا اور انہیں اس معاہدے کے ممکنہ نتائج سے آگاہ کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ 7 اکتوبر 2023 کے واقعات کے بعد اسرائیل خود کو ایک وجودی خطرے سے دوچار سمجھتا ہے اور اسی تناظر میں اپنی سیاسی اور عسکری حکمتِ عملی ترتیب دے رہا ہے۔ ان کے مطابق لبنان میں حالیہ حملے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اسرائیل خطے میں جنگ کے خاتمے سے خوش نہیں اور خود کو دباؤ میں محسوس کر رہا ہے۔

لبنانی حکومت کے کردار پر تنقید کرتے ہوئے صدرالحسینی نے کہا کہ بیروت نے ملکی خودمختاری کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کیے اور اسرائیلی حملوں پر اس کی خاموشی تشویش کا باعث ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کے تعلقات انتہائی مضبوط اور اسٹریٹجک نوعیت کے ہیں۔ ان کے بقول امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سیاسی دور میں بارہا ثابت کیا کہ وہ اسرائیلی قیادت، خصوصاً نیتن یاہو کے مطالبات کو اہمیت دیتے ہیں۔ اگرچہ بعض معاملات میں ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان اختلافات دیکھنے میں آتے ہیں، لیکن یہ اختلافات بنیادی پالیسیوں پر نہیں بلکہ ان کے نفاذ کے طریقۂ کار سے متعلق ہوتے ہیں۔

صدرالحسینی کا کہنا تھا کہ بعض اسرائیلی رہنما امریکہ سے الگ قومی مفادات کی بات کرتے ہیں، تاہم حقیقت یہ ہے کہ امریکی حمایت کے بغیر اسرائیل کے لیے اپنی موجودہ پوزیشن برقرار رکھنا انتہائی مشکل ہوگا۔

خطے کے مستقبل کے بارے میں انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں کسی واضح پیش گوئی کرنا آسان نہیں، کیونکہ متعدد علاقائی اور بین الاقوامی فریق ایسے ہیں جو کسی بھی وقت مفاہمتی عمل کو متاثر کر سکتے ہیں۔ ان کے مطابق اسرائیل کے غیر متوقع اقدامات مستقبل میں سب سے بڑا چیلنج بن سکتے ہیں اور یہی عنصر خطے کی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha