20 جون 2026 - 16:41
اسرائیل سے براہِ راست مذاکرات لبنان کو مزید پسپائی کی طرف دھکیل رہے ہیں، ایران نے لبنان کے لیے مذاکرات روک کر وفاداری ثابت کی، حسین الحاج حسن

بیروت ـ حزب اللہ سے وابستہ رکنِ پارلیمان اور "بعلبک-ہرمل" پارلیمانی بلاک کے سربراہ حسین الحاج حسن نے کہا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ براہِ راست مذاکرات سے لبنان کو کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوئی، بلکہ اس کے نتیجے میں مزید پسپائی اور خطرناک رعایتیں دینا پڑی ہیں۔ انہوں نے لبنانی حکام سے مطالبہ کیا کہ قومی مفادات کے تحفظ کے لیے اپنی پالیسیوں اور غلطیوں کا ازسرِ نو جائزہ لیں۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، حسین الحاج حسن نے کہا کہ لبنان کی حکمران قیادت نے متعدد غلط پالیسیاں اختیار کی ہیں، جن میں امریکی دباؤ کے سامنے مکمل جھکاؤ اور صہیونی دشمن کے ساتھ براہِ راست مذاکرات شامل ہیں۔ ان کے بقول یہ اقدامات آئین، ریاستی اداروں اور ان قوانین کے منافی ہیں جو اسرائیل کو دشمن قرار دیتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ لبنانی حکومت کو ان مذاکرات سے کوئی فائدہ نہیں پہنچا، بلکہ اس کے نتیجے میں مزید پسپائی اور سنگین نوعیت کی رعایتیں سامنے آئیں۔

العہد کے مطابق، الحاج حسن نے زور دیا کہ اگر حکومت قومی مفادات کا تحفظ، ریاستی اداروں کی فعالیت اور ملک میں استحکام چاہتی ہے تو اسے اپنی غلطیوں کی اصلاح کرنا ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ حکمرانوں کو، جیسا کہ وہ دعویٰ کرتے ہیں، پورے لبنان کی نمائندگی کرنی چاہیے، نہ کہ صرف آدھی، ایک تہائی یا ایک چوتھائی آبادی کی۔ ان کے مطابق قومی مفاد، قومی وحدت اور استحکام کے فروغ میں ہے، جبکہ موجودہ حکومتی پالیسیاں نہ تو اتحاد کو مضبوط کر رہی ہیں اور نہ ہی استحکام کے تحفظ کا سبب بن رہی ہیں۔

حسین الحاج حسن نے کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان باقی ماندہ معاملات طے کرنے کے لیے 60 روزہ مذاکرات شروع ہونا تھے، تاہم ایرانی وفد سوئٹزرلینڈ نہیں گیا کیونکہ صہیونی فریق لبنان میں جنگ بندی کی پاسداری پر آمادہ نہیں تھا۔ ان کے بقول ایران نے اس اقدام کے ذریعے پوری دنیا، خصوصاً عرب اور اسلامی اقوام کو یہ ثابت کر دیا کہ وہ اپنے وعدوں اور اتحادیوں کے ساتھ وفاداری کی حقیقی علامت ہے، کیونکہ اس نے پہلے ہی واضح کر دیا تھا کہ لبنان کو ترجیح دیے بغیر کوئی معاہدہ نہیں کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد سے ایران نے مزاحمتی تحریکوں کی حمایت کی، اسرائیلی سفارت خانہ بند کرکے فلسطینی سفارت خانہ قائم کیا اور خطے کی تمام مزاحمتی تحریکوں کی مختلف انداز میں پشت پناہی کی۔ آج بھی ایران لبنان اور اس کی مزاحمت کے شانہ بشانہ کھڑا ہے۔ ان کے بقول اس رویے نے ایران کے کردار، حمایت اور عزم پر شک کرنے والوں کو جواب دے دیا ہے۔

اپنے خطاب کے اختتام پر الحاج حسن نے کہا کہ مزاحمت ایک ایسے دشمن کا سامنا کر رہی ہے جو جدید اسلحے، طاقت اور ٹیکنالوجی سے لیس ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ اس راہ میں قربانیوں اور بھاری قیمت کی ضرورت ہے، تاہم یہ ایک وجودی خطرے کا مقابلہ کرنے کی قیمت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ محض خیالی باتیں نہیں، کیونکہ چند ماہ قبل ایک پریس کانفرنس میں "اسرائیلِ عظیم" کا نقشہ پیش کیا گیا تھا جس میں لبنان، فلسطین، شام کے بیشتر علاقے، اردن اور عراق، سعودی عرب اور مصر کے بعض حصے شامل تھے۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ امتِ مسلمہ اور ان کے معاشرے کے ہر فرد کی پہلی ذمہ داری ماضی، حال اور مستقبل میں صہیونی منصوبے کا مقابلہ کرنا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha