اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، اسرائیلی اخبار یدیعوت آحارانوت نے ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ معاہدے کو امریکہ کی اسٹریٹجک ناکامی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے نتیجے میں ایران اور حزب اللہ کی علاقائی پوزیشن مزید مستحکم ہوئی ہے۔
اخبار میں شائع ہونے والے تجزیے میں اسرائیلی امور کے ماہر بن دور یمینی نے کہا کہ ایران اور لبنان کے محاذ پر جنگ کے خاتمے کے لیے ہونے والا یہ معاہدہ درحقیقت ایران اور حزب اللہ کے لیے ایک بڑی کامیابی ثابت ہو رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جیسے جیسے معاہدے کی مزید تفصیلات سامنے آ رہی ہیں، اسرائیلی حلقوں میں تشویش بڑھتی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق معاہدے کے بعض پہلو ابتدائی طور پر سامنے آنے والی معلومات سے بھی زیادہ پریشان کن ہیں۔
بن دور یمینی نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات اور زمینی حقائق کے درمیان فرق پہلے کبھی اتنا واضح نہیں تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس صورتحال نے اسرائیلی قیادت میں ٹرمپ اور ان کے قریبی مشیروں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کے بارے میں نئی تشویش پیدا کر دی ہے۔
اسرائیلی تجزیہ کار کے مطابق معاہدے کی شقوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران اس عمل کا سب سے بڑا فائدہ اٹھانے والا فریق ہے، جبکہ لبنان میں بھی ایران کے اثر و رسوخ میں اضافہ ہوا ہے۔
انہوں نے یاد دلایا کہ ٹرمپ نے جنگ کے آغاز میں ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کو ختم کرنا اہم ہدف قرار دیا تھا، لیکن اب ان کے مؤقف میں نمایاں تبدیلی دیکھی جا رہی ہے۔ بن دور یمینی کے مطابق اس تبدیلی نے اسرائیلی عوام اور سیاسی حلقوں میں حیرت اور بے چینی کو جنم دیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ دنیا بھر میں لاکھوں لوگ ان بیانات کو سن کر حیران ہیں اور سوال اٹھا رہے ہیں کہ آیا امریکہ کی پالیسی میں یہ تبدیلی دانستہ ہے یا کسی بڑی اسٹریٹجک غلطی کا نتیجہ۔
اسرائیلی میڈیا میں حالیہ دنوں شائع ہونے والے متعدد تجزیوں میں اس بات کا اعتراف کیا جا رہا ہے کہ جنگ کے دوران طے کیے گئے کئی اہداف حاصل نہیں ہو سکے، جس کے باعث اسرائیلی سیاسی اور میڈیا حلقوں میں شدید بحث جاری ہے۔
آپ کا تبصرہ