بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ جانے پہچانے امریکی [یہودی] ماہر اقتصادیات ڈاکٹر جیفری ساکس (Jeffrey D Sachs) کا خیال ہے کہ امریکہ اب اس یقین پر پہنچ گیا ہے کہ اسرائیلی اندازوں کے برعکس، طاقت کے ذریعے ایران پر اپنی مرضی مسلط کرنا ممکن نہیں ہے؛ نتیجہ یہ کہ اب امریکی حکومت ایک غیر یقینی صورت حال کو جنگ میں واپسی پر، ترجیح دیتی ہے۔
ڈاکٹر پروفیسر جیفری ساکس کہتے ہیں:
- میں نے اسرائیل کو خبردار کیا ہے کہ وہ موجودہ راستے پر گامزن رہ کر بالآخر اپنی تباہی کی بنیاد فراہم کر رہا ہے۔
* اسرائیل "سیاسی اور اسٹراٹیجک خودکشی کے راستے" پر گامزن ہے۔
- امریکہ بار بار مذاکرات کو دھوکہ دہی کے ذریعے آلے کے طور پر استعمال کر چکا ہے اور پھر بھی اسی رویئے کو جاری رکھے گا۔
- طاقت کے استعمال نے اسرائیل کے وجود کی بنیادوں کو برباد کر دیا ہے۔
- اس زوال کی اہم ترین علامت یہ ہے کہ اسرائیل امریکہ میں اپنی سماجی اور سیاسی حمایت کھو چکا ہے؛ وہ حمایت جو ان تمام سالوں میں اسرائیل کا اصل سرمایہ سمجھی جاتی تھی۔
- امریکی رائے عامہ اب پہلے کی طرح اسرائیل کی حامی نہیں ہے؛ یہاں تک کہ امریکہ میں موجود کچھ سیاستدان بھی کھلے عام اسرائیل کے خلاف موقف اختیار کر رہے ہیں۔ یہ صورت حال جو اسرائیل کی تاریخ میں عدیم المثال ہے۔
- یہ پیشرفت روند اسرائیل کی جنگجویانہ روش کا براہِ راست نتیجہ ہے اور آج اسرائیلی مکمل تباہی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔
- "تشدد پسندی" کے علاوہ، اسرائیل کے اشتعال انگیز رویے، اس کی اپنی سلامتی، قانونی حیثیت اور سیاسی بنیادوں کو منہدم کر رہے ہیں۔
* موجودہ مبہم صورت حال، امریکہ کے لئے وسیع پیمانے پر جنگ میں واپسی سے بہتر ہے
- امریکہ کے لئے اس صورت حال کی اہمیت اس میں ہے کہ ایران نے دکھایا ہے، کہ آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی صلاحیت کے علاوہ، وہ زیادہ معتبر تسدید (ڈیٹرنس) کا حامل ہے۔ یعنی یہ کہ
- گر اس پر حملہ کیا جائے تو وہ خلیج فارس کے اہم بنیادی ڈھانچوں ـ بشمول توانائی کی تنصیبات اور پانی صاف کرنے کی تنصیبات ـ کو نشانہ بنا سکتا ہے اور پورے خطے اور دنیا کے لئے عظیم معاشی بحران پیدا کر سکتا ہے۔ لہٰذا،
- اصل مسئلہ صرف فرسودہ کرنے والی طویل جنگِ (War of attrition) یا میزائل اور گولہ بارود کا خاتمہ نہیں، بلکہ یہ
- حقیقت ہے کہ امریکہ کبھی بھی ـ عالمی معیشت کو تباہ کئے بغیر ـ ایران کو شکست نہیں دے سکتا؛ اسی وجہ سے،
- ہرمز میں اسی نیم کھلی غیر یقینی صورت حال کا تسلسل، اگرچہ کسی بھی فریق کے لئے مطلوب نہیں، لیکن کم از کم امریکہ کے لئے وسیع جنگ میں واپسی سے زیادہ "قابلِ برداشت" ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رپورٹ: رضا حسینی
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ