بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ "ایران" اخبار نے لکھا: اکیسویں صدی میں بین الاقوامی نظام کی پیچیدہ تبدیلیاں، ـ خاص طور پر ایران کے خلاف تیسری مسلط کردہ جنگ کا تجربہ، ـ بنیادی طور پر اس تصور کی نئی تعریف کی ضرورت کو عیاں کر چکا ہے۔
یہ نئی تعریف نہ صرف تعلیمی اور تجزیاتی ادب کے سانچے میں کی ہونی چاہئے، بلکہ سیاسی اشرافیہ کے ادراک اور داخلی و بین الاقوامی رائے عامہ میں فتح کے بیانئے میں بھی اس کی ازسرِنو تعریف کی جانی چاہئے۔ جیسا کہ اشارہ کیا گیا، اس شعبے کے کلاسیکی ادب میں، فتح کی تعریف بین الاقوامی طاقت کے ڈھانچے میں کسی ریاست کی تقابلی حیثیت میں بہتری کے معنی میں کی گئی ہے۔ ایک ریاست اس وقت فتح یاب ہوتی ہے جب وہ تنازع کے بعد، طاقت کے وسائل میں سے زیادہ حصہ حاصل کر سکے یا اپنے اثر و رسوخ کے دائرے کو وسیع کر سکے۔ لیکن یہی تقابلی حیثیت، بحران کے تسلسل اور تواتر کا پس منظر فراہم کرتا ہے۔
اگر فتح کا مطلب صرف زیادہ مفادات حاصل کرنا ہو، تو پھر شکست خوردہ اور ذلیل شدہ فریق، ہمیشہ انتقام اور کھوئی ہوئی چیزیں واپس لینے کا متلاشی رہے گا۔ پہلی عالمی جنگ کے بعد، "معاہدۂ ورسائے" (Treaty of Versailles) ـ جس نے جرمنی کو ذلیل کر کے اس پر صلح مسلط کر دی، نہ صرف امن کا باعث نہیں بنا، بلکہ اس نے دوسری عالمی جنگ کا پس منظر بھی فراہم کیا۔
ایران مسلط کردہ تیسری جنگ اس کلاسیکی تعریف کی صداقت پرکھنے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ امریکہ بے مثال فوجی بجٹ اور مکمل تکنیکی برتری کے ساتھ، فیصلہ کن فتح کے درپے تھا جس میں ایران میں نظام کی تبدیلی، ایٹمی پروگرام کی تباہی، دفاعی طاقت کمزور کرنا، محور مقاومت (محاذ مزاحمت) کی بربادی، آبنائے ہرمز پر بین الاقوامی کنٹرول اور ایران کی معاشی تباہی شامل تھی۔ لیکن چار ساختی رکاوٹوں نے دشمن کی اس مطلوبہ فتح کو ناممکن بنا دیا۔
اول: ایران کی غیر متناسب تسدید (Asymmetric Deterrence)؛ جس نے آبنائے ہرمز کے ذریعے، امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے لئے جنگ کی لاگت بڑھا دی۔
دوئم: ایرانیوں کی قومی لچک؛ جس نے امریکہ کے حسابات کے برعکس، "عوام پر مبنی تزویر (People-based strategy) اور سماجی ہم آہنگی کا مظاہرہ کیا اور اندر سے شکست و ریخت کے دعوے کو شدید کمزور کیا۔
سوئم: امریکہ کی سرکردگی میں بین الاقوامی اتفاق رائے کی فرسودگی؛ جس نے امریکہ کو تزویراتی تنہائی میں دھکیل دیا۔
چہارم: متوازی مالی راہداریوں کی ظہور پذیری؛ جس نے ڈالر کے اوزار کو کُند کر دیا اور پابندیوں کو دھندلا کر دیا۔
یہ رکاوٹیں ایک ناگزیر نتیجے پر منتج ہوتی ہیں کہ آج کی دنیا میں، کلاسیکی معنی والی 'فتح'، کی ازسرِنو تعریف ہونی چاہئے۔ زیادہ مفادات کا حصول اور یکطرفہ اسٹراٹیجک کامیابی، نہ صرف امن نہیں لاتی، بلکہ بعد کی بحرانوں کا پس منظر فراہم کرتی ہے۔ لہٰذا، فتح کے تصور کی ازسرِنو تعریف کی ضرورت، محض ایک علمی بحث نہیں بلکہ بین الاقوامی امن اور استحکام کے لئے ایک اسٹراٹیجک ضرورت کے طور پر ابھرتی ہے۔
یہ ازسرِنو تعریف تین سطحوں پر کی جانی چاہئے:
اول: سیاسی اشرافیہ اور پالیسی سازوں کی سطح پر، جو ان مباحث کے فیصلہ ساز ہیں۔ سیاسی اشرافیہ کو فیصلہ کن فتح کے تصور سے آگے بڑھنا چاہئے اور یہ قبول کرنا چاہئے کہ آج کی کثیر جہتی دنیا میں، یکطرفہ فتح قابل حصول نہیں ہے۔ انہیں بقا، یعنی علاقائی سالمیت، قومی خودمختاری اور سماجی ہم آہنگی کو فتح سمجھ لینا چاہئے اور متوازن معاہدے کو، جس میں دونوں فریق اپنے بنیادی مفادات کو برقرار رکھیں، مسلط کردہ صلح پر ترجیح دینی چاہئے۔ ایران اور امریکہ کا مفاہمت نامہ جو ذمہ داری کے بدلے ذمہ داری کے اصول پر مرتب کیا گیا، اس نئے ادراک کی ایک زندہ مثال ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر: محترمہ ام البنین خسروی
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ