اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق،معروف فلسطینی تجزیہ کار اور روزنامہ رائے الیوم کے مدیر عبدالباری عطوان نے کہا ہے کہ ایران نے جنگ اور مذاکرات دونوں محاذوں پر دانشمندی سے کام لیا، جبکہ اسرائیل اس تنازع کا سب سے بڑا نقصان اٹھانے والا فریق بن کر سامنے آیا ہے۔
اپنے تازہ اداریے میں عطوان نے لکھا کہ تقریباً 100 روز تک جاری رہنے والی جنگ کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس نتیجے پر پہنچے کہ ایران کے خلاف فوجی محاذ پر کامیابی حاصل کرنا ممکن نہیں، جبکہ شکست کے امکانات زیادہ ہیں۔ ان کے مطابق اسی وجہ سے واشنگٹن نے جنگ کے خاتمے اور نقصان کم کرنے کے لیے سیاسی راستہ اختیار کیا۔
عطوان کے مطابق،مجوزہ مفاہمتی سمجھوتہ جنگ بندی، خطے میں کشیدگی کم کرنے اور بعض حساس مسائل کو آئندہ مذاکرات کے لیے مؤخر کرنے کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران نے اپنی سفارتی اور عسکری صلاحیتوں کو مؤثر انداز میں استعمال کیا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران نے اپنی جوہری صلاحیت، میزائل اور ڈرون پروگرام، علاقائی روابط اور مختلف محاذوں کے درمیان ہم آہنگی جیسے عناصر کو مؤثر حکمتِ عملی کے طور پر استعمال کیا، جس کے نتیجے میں اس کی پوزیشن مضبوط ہوئی۔
عبدالباری عطوان نے کہا کہ اسرائیل، جو ان کے بقول جنگ کا آغاز کرنے والوں میں شامل تھا، ممکنہ معاہدے کی تشکیل میں مؤثر کردار ادا کرنے میں ناکام رہا اور یہی اس کے لیے ایک بڑی سیاسی ناکامی سمجھی جا رہی ہے۔
انہوں نے مزید لکھا کہ جنگ کے نتائج ان توقعات کے برعکس نکلے جو امریکہ اور اسرائیل نے ابتدا میں قائم کی تھیں۔ ان کے مطابق ایران نہ صرف برقرار رہا بلکہ اس کی داخلی یکجہتی اور علاقائی اثر و رسوخ میں بھی اضافہ ہوا۔
فلسطینی تجزیہ کار نے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ صورتحال میں اسرائیل کو سیاسی اور تزویراتی چیلنجز کا سامنا ہے، جبکہ ایران اپنے موقف کو زیادہ مضبوط انداز میں پیش کرنے میں کامیاب رہا ہے۔
عطوان نے یہ بھی کہا کہ آنے والے مہینوں میں اس جنگ اور اس کے نتائج کے سیاسی اثرات امریکہ اور خطے کی سیاست پر مزید واضح ہو سکتے ہیں۔ ان کے مطابق، مستقبل کے واقعات طے کریں گے کہ مجوزہ سمجھوتہ کس حد تک پائیدار ثابت ہوتا ہے اور خطے کے طاقت کے توازن پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
آپ کا تبصرہ