بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ امام خمینی (رحمۃ اللہ علیہ) "ایک [واحد] شخصیت" نہیں تھے؛ وہ "ایک شخصیت کے اندر ایک تہذیب" تھے۔ وہ اس نادر حقیقت کا مظہر ہیں جسے انسانی فکر کی تاریخ میں "جامع الاطراف" (اور کثیر الجہت اور ہر جہت میں مکمل) شخصیت کہا جاتا ہے: ایک فلسفی جو سیاست کو بغیر عرفان کے ادھورا سمجھتا ہے، ایک عارف جو فقہ کو سماجی تبدیلی کے بغیر تنگ نظر (بے لچک) شمار کرتا ہے، اور ایک فقیہ جو روحانیت کو "سماجی الہیات" کے میدان میں آنے کی دعوت دیتا ہے۔
ثقافتی پہلو: شرح اسفار سے لے کر "عرفانی اشعار" تک
امام خمینی (رحمۃ اللہ علیہ) کے لئے ثقافت، سیاست کے حاشئے پر کوئی تزئینی فیتہ نہیں، بلکہ متن اور مرکز ہے بلکہ متن کی بنیاد ہے۔ ان کی فکر کی جڑیں ملا صدرا کی حکمت متعالیہ کی گہرائیوں میں اور اس کی شاخیں محی الدین ابن عربی اور مولانا جلال الدین رومی کے عرفان میں پیوست ہیں۔ وہ قم میں فلسفے کی عظیم کتاب "الاسفار" کے اسباق اس انداز سے بیان کرتے تھے کہ گویا وہ عرفان کے چار اسفار میں عالم کی روح تلاش کر رہے ہوں۔ لیکن یہ عرفان کبھی انفرادی گوشہ نشینی اور تنہائی پر منتج نہیں ہؤا۔
ثقافتی میدان میں امام کی نمایاں خصوصیت "انفرادی سلوک (اصلاحِ نفس)" کا "سماجی اصلاح (اصلاحِ معاشرہ)" سے ربط و پیوند ہے؛ جہاں وہ "چہل حدیث" (چالیس حدیثیں) میں "اصلاح نفس" کی بات کرتے ہیں، وہیں ایک انقلاب کی اخلاقی بنیادیں قائم کرتے ہیں اور جہاں وہ شعر کہتے ہیں وہاں وہ ایک ایسی ثقافت کی تصویر کشی کرتے ہیں جس میں سیاست بھی نورِ توحید کا آئینہ دار ہو سکتی ہے۔
خود سازی (اصلاح نفس) اور ثقافتی احساس کمتری کے خلاف مزاحمت پر ان کا زور، اسلامی جمہوریہ کی ثقافتی شناخت کے دو اہم ستون بن گئے۔ ایک ایسی ثقافت جس میں یونیورسٹی اور دینی مدرسہ، روایت اور جدیدیت، عقل اور عشق، تصادم میں نہیں بلکہ ہم آہنگ، ہم زیست اور بسوئے کمال رواں دواں ہیں۔
امام کی شخصیت کے ثقافتی پہلو کی دیگر بے مثال خصوصیات میں سے، عورت کا ـ گوہرِ انقلاب کے طور پر ـ احیاء ہے۔ انھوں نے تنگ نظری پر مبنی [اور تکفیری] تشریحات کے برخلاف، عورت کو "معاشرے کی مُرَبِّی" اور "انسانی جذبات کا مرکز" قرار دیا اور ایرانی خواتین کو مردوں کے شانہ بشانہ تاریخ بیان کرنے کی اجازت دی؛ غیر فعال کردار کے طور پر نہیں، بلکہ سرگرم اور فعال اخلاقی اور سیاسی کردار کے طور پر۔
سیاسی پہلو: فقاہت کا پہلو جو انقلاب بن گئی
لیکن امام خمینی (رحمۃ اللہ علیہ) کا تہذیبی موڑ وہاں رونما ہؤا جب انھوں نے فقہ کو انفرادی مسائل کے حصار سے نکال کر اقتدار کے متن میں کھینچ لایا۔ انھوں نے نظریۂ "ولایت فقیہ" کے ساتھ نہ صرف ایک حکومتی نمونہ، بلکہ اسلامی-سیاسی-تھیوری میں ایک نیا پیراڈائم (نمونہ) پیش کیا: عوامی آراء پر انحصار کے ساتھ ساتھ شریعت کی پابندی کرتے ہوئے، مذہبی حکومت کی عوامی ترین تشریح۔
امام کی فکر میں سیاست، اخلاق اور عرفان کا تسلسل ہے؛ نہ کہ دھوکے اور مفاد پرستی کا میدان۔ 'امریکی اسلام' پر ان کی تنقید اور 'مستضعفین کے اسلام' کا دفاع، ایک دوئی ہے جس نے اسلامی انقلاب کی چار دہائیوں کو سمت دی ہے۔ تیل کے قومیائے جانے سے لے کر بیت المقدس کی آزادی کی تحریک تک، فلسطین کی حمایت سے لے کر 'نہ مشرق اور نہ مغرب' کا پیغام جاری کرنے تک؛ سب کچھ اس سوچ میں جڑا ہوا تھا کہ سیاست روحانیت اور انصاف کی خدمت میں ہونی چاہئے، نہ کہ اقتدار کی غلامی میں۔
بین الاقوامی میدان میں امام نے سرد جنگ کے دو قطبی نظام کو چیلنج کیا۔ "نہ شرقی نہ غربی" (نہ مشرق نہ مغرب) محض ایک نعرہ نہیں تھا؛ بلکہ ایک ایسا متن تھا جس نے دنیا پر مسلط دو تسلط پسند نظاموں "سرمایہ داری" اور "کمیونزم" کو مسترد کر دیا۔ انھوں نے حق کی مظلومیت اور جبر کی نفی پر بھروسہ کیا اور ان صدائے حق نہ صرف ایران بلکہ لبنان، فلسطین، افغانستان، بوسنیا میں ـ اور جہاں کہیں بھی ناانصافی کی آواز بلند ہوئی ـ گونج اٹھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر: محمد مہدی مؤمنی نیا
ترجمہ: فرحت حسین مہدوی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ