بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ امریکی بحریہ کے ریٹائرڈ افسر، میلکم نانس نے ایران پر حالیہ امریکی حملوں کا تجزیہ کرتے ہوئے وضاحت کی کہ ایران کے ردعمل کو بہتر طور پر سمجھنے کے لئے، اُن تصورات کو سمجھنا ضروری ہے جن کی جڑیں "عاشورا اور مزاحمت کی تعلیمات" میں پیوست ہیں۔ اس تجزیئے میں قابلِ توجہ نکتہ یہ ہے کہ وہ ایران کے سیاسی کلچر کے تناظر میں "مزاحمت اور سماجی یکجہتی کی باز آفرِینی" کے بنیادی مسئلے پر بار بار زور دیتے ہیں، جس کی وجہ سے عوام کا "خون اور وقار" اسلامی جمہوریہ کے لئے بہت اہم اور سرخ لکیر (Red-line) کی مانند ہے۔ اس کے بعد وہ زور دیتے ہیں کہ اگر امریکی حملوں کی وجہ سے ایران کے لوگ اور/یا افواج مارے جاتے ہیں، تو ایران کا ردعمل بھی تکلیف دہ ہوگا اور اس کے نتیجے میں امریکی اہلکار بھی مارے جائیں گے۔
امریکی بحریہ کے سابق افسر اور جیو پولیٹیکل امور کے ماہر نے کہا:
حصۂ دوئم:
* ایران اپنی شہریوں کے خون پر آنکھیں نہیں بند کرتا اور ان حملوں پر سخت ردعمل دکھاتا ہے
- ممکن ہے - ایران اس مرحلے امریکہ پر دباؤ ڈالنے کے لئے بہت بڑا اور مہنگا اقدام نہ کرے اور امریکی بحری جہازوں کو نہ ڈبوئے۔ کیونکہ
- اس کا اصل اوزار آبنائے ہرمز پر اس کا کنٹرول ہے جس پر اپنے دباؤ کے ذریعے وہ اپنے اہداف آگے بڑھا رہا ہے۔
- آبنائے ہرمز اب ایک ایسا پریشر پوائنٹ بن چکا ہے جہاں نہ صرف امریکہ بلکہ عالمی توانائی کی منڈی بھی متاثر ہو رہی ہے اور اسی وجہ سے واشنگٹن ایک قسم کی گھبراہٹ اور جلد بازی میں ردعمل دکھا رہا ہے۔
- ٹرمپ کے اس دعوے کے برخلاف ـ کہ وہ ایران کو معاہدے کے لئے مشتاق دکھا رہا تھا، ـ درحقیقت خود ٹرمپ ہی ہے جسے معاہدے کی ضرورت ہے، کیونکہ
- آبنائے ہرمز کی بندش یا عدم تحفظ کا تسلسل، امریکہ پر بھاری اقتصادی اور سیاسی اخراجات عائد کرتا ہے۔
- امریکی حملوں میں ایرانی افواج کے قتل کا تو علم نہیں لیکن
- تہران نے اس معاملے کو محض ایک محدود فوجی ضرب تصور نہیں کیا اور جوابی حملوں میں کویت، بحرین، امارات اور اردن میں امریکی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا۔
- ایران نے اعلان کیا ہے کہ اس نے خاص طور پر اردن میں امریکی اڈوں میں چار انتہائی بنیادی اہمیت کے مقامات کو نشانہ بنایا۔
میلکم نانس کے مطابق؛
- امریکیوں کی بنیادی حسابی غلطی یہ ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ وہ ایرانی اہداف کو نشانہ بنا سکتے ہیں، سپاہ کے اہلکاروں کو مار سکتے ہیں اور وہ خود کسی سنگین نتیجے کا سامنا کئے بغیر محفوظ رہ سکتے ہیں۔ جبکہ
- ایران اپنی افواج کے قتل کو سنجیدگی سے لیتا ہے اور ایسی صورتِ حال میں جہاں اس کو خطے کے بعض حصوں میں بالادستی حاصل ہے، وہ ان حملوں کی قیمت امریکہ اور اس کے علاقائی شراکت داروں سے وصول کرتا ہے۔
* امریکہ ایرانی مقامی اور مؤثر ٹیکنالوجی کے سامنے بدستور زدپذیر اور غیر محفوظ ہے
- اپاچی ہیلی کاپٹر کی تباہی سے معلوم ہوتا ہے کہ امریکہ نئے میدانِ جنگ میں ڈرون خطرات، فضا میں بھٹکتے ہوئے ہتھیاروں اور کم لاگت لیکن مؤثر ٹیکنالوجیز کے سامنے ایک سنگین کمزوری کا شکار ہے۔
- ایران نے شاید شاہد 358 یا کسی قسم کے ہدف تلاش کرنے والے ڈرون جیسا اسلحہ استعمال کیا ہو۔
- یہ ایک ایسا نظام ہے جو ہوا میں گھومتا پھرتا ہے، ہیلی کاپٹر کے پرواز کے راستے کو برقی مقناطیسی ٹریکنگ یا فیلڈ معلومات کے ذریعے پہچان سکتا ہے، اور مناسب وقت پر اوپر سے یا کنارے سے حملہ کر سکتا ہے۔
- اس طرح کے خطرے سے نمٹنا محض "جیمنگ" سے ممکن نہیں ہے، کیونکہ خلیج فارس فوجی، بحری، فضائی اور غیر فوجی مواصلات کے حوالے سے ایک بہت گھنا اور پیچیدہ ماحول ہے، اور وسیع پیمانے پر جیمنگ بحری جہازوں، غیر فوجی طیاروں اور اپنے ہی سسٹمز کے رابطے میں بھی خلل ڈال سکتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ