اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا،رپورٹس کے مطابق، آبنائے ہرمز کی بندش اور خطے میں کشیدگی کے باعث عالمی آٹو موبائل انڈسٹری کو شدید جھٹکا لگا ہے، جس سے جاپان، جنوبی کوریا اور جرمنی سمیت بڑے صنعتی ممالک کی سپلائی چین متاثر ہوئی ہے۔
ذرائع کے مطابق اپریل 2026 میں جاپان کی گاڑیوں کی برآمدات میں مشرقِ وسطیٰ کی جانب 90 فیصد سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس صورتحال نے عالمی سطح پر گاڑیوں کی پیداوار اور ترسیل کے نظام کو بری طرح متاثر کیا ہے۔
جاپانی آٹو انڈسٹری، خصوصاً کمپنی ٹویوٹا کو اربوں ڈالر کے نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے، جبکہ دیگر بڑی کمپنیوں جیسے نسان، مزدا اور سوبارو کی برآمدات بھی متاثر ہوئیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنوبی کوریا کا آٹو گروپ ہیونڈائی کیا آٹوموٹیو گروپ بھی شدید دباؤ کا شکار ہوا، کیونکہ خام مال کی ترسیل اور شپنگ راستے متاثر ہونے سے پیداوار اور برآمدات دونوں میں مشکلات پیدا ہوئیں۔
اسی طرح جرمنی کی معروف آٹو کمپنیاں بی ایم ڈبلیو اور مرسڈیز بینز بھی سپلائی چین میں رکاوٹوں کے باعث متاثر ہونے والی صنعتوں میں شامل ہیں۔
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز جیسے اہم تجارتی راستے کی بندش سے نہ صرف توانائی کی ترسیل متاثر ہوتی ہے بلکہ صنعتی پیداوار، خاص طور پر آٹو موبائل سیکٹر، براہِ راست بحران کا شکار ہو جاتا ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ بعض شپنگ کمپنیوں کو افریقہ کے کیپ آف گڈ ہوپ کے راستے سے طویل سفر اختیار کرنا پڑا، جس سے لاگت اور ترسیلی وقت میں نمایاں اضافہ ہوا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال نے عالمی معیشت کی باہمی انحصاری کو مزید واضح کر دیا ہے اور یہ ثابت کیا ہے کہ ایک اہم آبی گزرگاہ کی بندش پوری عالمی صنعتی سپلائی چین کو مفلوج کر سکتی ہے۔
آپ کا تبصرہ