اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق،امریکی ایوانِ نمائندگان کی خارجہ تعلقات کمیٹی کی رکن میڈلین ڈین نے الزام عائد کیا ہے کہ سابق و موجودہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کے اثر میں آ کر ایران کے خلاف جنگ کا آغاز کیا۔
انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ ٹرمپ نے بعض مشیروں کی رائے کے برعکس اور نیتن یاہو کے دباؤ پر خطے میں فوجی کارروائی کا راستہ اختیار کیا، جس کے نتیجے میں موجودہ کشیدگی میں اضافہ ہوا۔
کانگریس رکن کے مطابق امریکی پالیسی ساز ٹیم میں پیشہ ور سفارتکاروں کے بجائے غیر روایتی مشیروں پر انحصار کیا جا رہا ہے، جسے انہوں نے ناکام حکمتِ عملی قرار دیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ جنگ کے آغاز کے وقت یہ مفروضہ قائم کیا گیا تھا کہ یہ ایک تیز اور آسان کارروائی ہوگی، تاہم اس کے سنگین اور طویل المدتی نتائج کو نظر انداز کیا گیا۔
میڈلین ڈین نے مطالبہ کیا کہ امریکہ کو فوری طور پر ایران کے خلاف جنگ ختم کرنی چاہیے اور اس مسئلے کے حل کے لیے سفارتی راستہ اختیار کیا جانا چاہیے۔
ان کے مطابق خطے میں پائیدار امن صرف مذاکرات اور حقیقت پسندانہ سفارت کاری کے ذریعے ہی ممکن ہے، نہ کہ عسکری اقدامات کے ذریعے۔
آپ کا تبصرہ