بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ اسرائیلی ریڈیو اور ٹیلی ویژن ادارے نے ایک باخبر ذریعے کے حوالے سے بتایا کہ اس ریاست نے جنوبی بیروت کے علاقے "ضاحیہ" پر بڑا حملہ کرنے کا منصوبہ بنایا تھا لیکن آخری لمحات میں امریکہ کی مداخلت کے بعد یہ آپریشن ملتوی کر دیا گیا۔
واضح رہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کے مرکزی خاتم الانبیاء(ص) ہیڈکوارٹرز نے خبردار کیا: صہیونی ریاست کی طرف سے جنگ بندی کی بار بار خلاف ورزیوں کے پیش نظر، اگر ضاحیہ اور بیروت پر بمباری کی دھمکی پر عمل درآمد ہوتا ہے تو مقبوضہ سرزمینوں کے شمالی حصوں اور فوجی بستیوں کے باشندوں کو خبردار کرتے ہیں کہ اگر جان پیاری ہے اور نقصان سے بچنا چاہتے ہیں تو علاقہ چھوڑ کر چلے جائیں۔ جس کے بعد دو قاتلوں وزیر اعظم "نیتن یاہو اور وزیر جنگ اسرائیل کاٹز" نے اپنی بات واپس لی اور ٹرمپ نے بھی کہا کہ اس نے مداخلت کی ہے اور نیتن یاہو کو حملے سے روک لیا ہے۔
صہیونی i12 نے ـ یہ جتانے کے لئے کہ غاصب ریاست نے بیرونی دباؤ (یعنی ایران کی دھمکی اور امریکی کی درخواست) کی وجہ سے بیروت پر حملہ منسوخ نہیں کیا، ـ دعویٰ کیا کہ نیتن یاہو اور کاٹز نے امریکہ کی منظوری حاصل کرنے سے پہلے ہی بیروت میں اہداف پر حملے کی اطلاع دے دی تھی۔
صہیونی چینل i12 نے ریاست کے ایک سیکورٹی ذریعے کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ ضاحیۂ بیروت پر حملے کے بارے میں نیتن یاہو اور کاٹز کے بیانات نے ہمیں حیران کر دیا۔
کل صبح عبرانی میڈیا نے کہا تھا کہ جنوبی بیروت کے علاقے ضاحیہ پر حملے کا فیصلہ امریکہ کی ہم آہنگی سے کیا گیا ہے۔
حضرت خاتم الانبیاء (ص) مرکزی قرار گاہ نے کچھ گھنٹے قبل ایک اعلامیے میں کہا: نتنیاہو نے خطے میں اپنی شرانگیزیوں کے سلسلے میں، ضاحیہ اور بیروت کو بمباری کی دھمکی دی ہے اور وہاں کے باشندوں کے لیے انخلاء کا انتباہ اعلان کیا ہے۔
ادھر اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج کے مرکزی خاتم الانبیاء(ص) ہیڈکوارٹرز نے خبردار کیا کہ غاصب رژیم کی طرف سے جنگ بندی کی بار بار خلاف ورزیوں کے پیش نظر، اگر اس دھمکی پر عمل درآمد ہوتا ہے تو مقبوضہ سرزمینوں کے شمالی حصوں اور فوجی بستیوں کے باشندوں پر بھاری حملے کئے جائیں گے۔
مرکزی خاتم الانبیاء(ص) ہیدکوارٹرز نے مقبوضہ فلسطین کے شمالی علاقے میں رہائش پذیر صہیونیوں سے کہا تھا کہ اگر انہیں جان پیاری ہے اور وہ نقصان سے بچنا چاہتے ہیں تو علاقہ چھوڑ دیں۔
ادھر طفل خوار پیڈوفائل امریکی صدر ٹرمپ نے پوری کہانی اپنی طرف منسوب کر دی اور دعویٰ کیا کہ اس نے نیتن یاہو کو فون کیا اور اسے مجبور کیا کہ وہ ضاحیہ پر حملہ نہ کرے، اور اگر اس کی بات درست تسلیم کیا جائے تو یہ بات بھی درست ہوگی کہ لبنان پر صہیونی جارحیت میں بھی وہ برابر کا شریک ہے۔
ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ کوئی اسرائیلی فورس لبنان کے ضاحیہ میں داخل نہیں ہوگی، اور جو فورسز بیروت کی طرف جا رہی تھیں وہ واپس آ گئی ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ