26 مئی 2026 - 16:57
نتن یاہو: لبنان کو ایران معاہدے کا حصہ نہیں بننے دیں گے؛ حزب اللہ کے خلاف حملے مزید تیز کرنے کا حکم

صہیونی رژیم کے وزیرِ اعظم نتن یاہو نے ایران اور امریکہ کے درمیان جاری مذاکرات سے لبنان کے معاملے کو الگ رکھنے کی کوشش کرتے ہوئے اسرائیلی فوج کو ہدایت دی ہے کہ حزب اللہ کے خلاف اپنی کارروائیاں مزید شدت اور تیزی کے ساتھ جاری رکھے تاکہ اس تحریک کو مکمل طور پر کچل دیا جائے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، نتن یاہو واشنگٹن پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ لبنان کو ایران کے ساتھ کسی بھی ممکنہ معاہدے سے الگ رکھا جائے۔ انہوں نے امریکی حکام کو واضح طور پر بتایا ہے کہ اسرائیل ایسا کوئی معاہدہ قبول نہیں کرے گا جو لبنان میں اس کی فوجی کارروائیوں کی راہ میں رکاوٹ بنے۔

تل ابیب کا اصرار ہے کہ لبنان کی سرزمین پر فضائی اور زمینی حملوں اور سرحد سے 8 کلومیٹر اندر تک اپنی فوجی موجودگی برقرار رکھنے کے لیے اسے “مکمل عملی آزادی” حاصل ہونی چاہیے، جبکہ شمالی محاذ کو تہران کے ساتھ سفارتی نتائج سے الگ رکھتے ہوئے آگے بڑھایا جائے۔

اسرائیلی وزیرِ اعظم نے ایک ویڈیو پیغام میں سخت لہجے میں کہا کہ وہ کشیدگی کم کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے بلکہ انہوں نے حکم دیا ہے کہ حزب اللہ کے خلاف حملوں کو مزید طاقت اور رفتار کے ساتھ جاری رکھا جائے۔ اسرائیلی ذرائع ابلاغ نے بھی انکشاف کیا ہے کہ فوج نے بڑے پیمانے پر شدید اور غیر معمولی حملوں کا منصوبہ تیار کر لیا ہے اور صرف سیاسی قیادت کی حتمی منظوری کی منتظر ہے۔

اسی سلسلے میں اسرائیلی وزیرِ دفاع بھی جنگ کے دائرہ کار کو وسیع کرنے کے لیے واشنگٹن کے ساتھ رابطوں میں مصروف ہیں۔

دوسری جانب جنوبی لبنان کے رہائشی علاقوں اور تجارتی مراکز، خصوصاً نبطیہ، صور اور بنت جبیل پر اسرائیلی فضائی حملوں میں شدت آ گئی ہے جبکہ غیر نظامی شہداء کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اسرائیل خطے میں جاری سفارتی کوششوں کو نظر انداز کرتے ہوئے لبنان کے خلاف اپنے “آتشیں حملے” کے منصوبے کو حتمی شکل دینا چاہتا ہے تاکہ حزب اللہ پر فوجی دباؤ کو انتہا تک پہنچایا جا سکے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha