بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ سی این این ایک رپورٹ میں کہتا ہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز میں حالیہ کشیدگی کا تجربہ کرنے کے بعد، اب اپنے اثر و رسوخ کو بڑھانے کے لیے ایک نئے داؤ کا استعمال کرنے کی تلاش میں ہے۔ زیرِ آب انٹرنیٹ کیبلیں جو یورپ، ایشیا اور خلیج فارس کے ممالک کے درمیان انٹرنیٹ اور مالیاتی رابطوں کی ایک بڑی مقدار منتقل کرتی ہیں۔ یہ میڈیا لکھتا ہے کہ ایران عالمی معیشت پر اتنی بھاری قیمت عائد کرنے کا ارادہ رکھتا ہے کہ پھر کسی میں ایران پر دوبارہ حملہ کرنے کی جرأت نہ رہے۔
۔۔۔
حصۂ دوئم:
مصطفیٰ احمد کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز ایشیائی ڈیٹا سینٹرز، بشمول سنگاپور، اور یورپ میں کیبل لینڈنگ اسٹیشنوں کے درمیان ایک اہم ڈیجیٹل گذرگاہ ہے۔ ان کے مطابق، اس راستے میں کسی بھی قسم کا خلل یورپ اور ایشیا کے درمیان مالی لین دین اور سرحد پار ٹرانزیکشنز کو بھی سست کر سکتا ہے، جبکہ مشرقی افریقہ کے کچھ حصے انٹرنیٹ کی بندش کا شکار ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر ایران کی اتحادی افواج بحرِ احمر میں بھی ایسا ہی حربہ استعمال کرنے کا فیصلہ کر لیں، تو نقصانات کا دائرہ بہت وسیع ہو سکتا ہے۔
ہانگ کانگ کی کمپنی HGC Global Communications کے اعلان کے مطابق، 2024 میں تین زیرِ آب کیبلیں اس وقت کٹ گئیں جب حوثیوں کا نشانہ بنائے گئے ایک جہاز کے ڈوبتے وقت اس کا لنگر سمندر کی تہہ میں گھس گیا۔ اس واقعے نے خطے کے تقریباً 25 فیصد انٹرنیٹ ٹریفک کو خلل سے دوچار کر دیا۔
ایک ایسا ذریعہ جس سے کوئی ایران پر حملہ کرنے کی جرأت نہ کر سکے
ایران اپنی جغرافیائی حیثیت کو اسی طرز پر استعمال کرنے کی کوشش کر رہا ہے جس طرح کہ مصر نے نہرِ سوئز میں نافذ کر دیا ہے، یعنی خطے سے گذرنے والی کیبلز سے فیس وصول کرنا۔ ایرانی حکام اب سمجھ گئے ہیں کہ آبنائے ہرمز اور اس کے مواصلاتی ڈھانچے کا دنیا پر اس سے کہیں زیادہ وسیع معاشی اور نفسیاتی اثر ہو سکتا ہے جتنا کہ اب تک سوچا گیا تھا۔
ڈونلڈ ٹرمپ کی چین سے واپسی کے بعد جنگ کے دوبارہ شروع ہونے کے خدشات میں اضافے کے ساتھ ساتھ، ایران تیزی سے یہ پیغام بھیج رہا ہے کہ اس کے پاس فوجی صلاحیت کے ساتھ ساتھ دیگر طاقتور اوزار بھی ہیں۔ یہ اقدام توانائی کی برآمدات سے ہٹ کر آبنائے ہرمز کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں تہران اپنی جغرافیائی حیثیت کو طویل مدتی اقتصادی اور اسٹریٹجک طاقت کے ایک بڑے ذریعے میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
زیرِ آب کیبلیں عالمی رابطے کی ریڑھ کی ہڈی کو تشکیل دیتی ہیں اور دنیا کے انٹرنیٹ اور ڈیٹا ٹریفک کی بڑی مقدار منتقل کرتی ہیں۔ ان کیبلز کو نشانہ بنانے سے نہ صرف انٹرنیٹ کی رفتار متاثر ہوگی، بلکہ یہ بینکاری نظام، فوجی مواصلات اور مصنوعی ذہانت کے کلاؤڈ انفراسٹرکچر سے لے کر دور سے کام کرنے، آن لائن گیمز اور انٹرنیٹ سٹریمنگ سروسز تک ہر چیز کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔
بلومبرگ اکنامکس میں مشرق وسطیٰ کی سربراہ دینا اسفندیاری کہتی ہیں: "ایران عالمی معیشت پر اتنا بھاری بوجھ لادنے کا ارادہ رکھتا ہے کہ پھر کسی میں ایران پر دوبارہ حملہ کرنے کی جرأت نہ رہے۔"
نکتہ:
آبنائے ہرمز وہی اسٹراٹیجک مقام ہے جو ابتدائے تاریخ سے ایران کے پاس تھا لیکن اس سے فائدہ نہیں اٹھا رہا تھا اور دنیا کو اجازت دے رہا تھا کہ اس سے اپنی ضروریات ـ مفت میں ـ پوری کرتے رہیں، یہاں تک کہ دنیا کو اپنی سلطنت سمجھنے والوں نے جارحیت کے ذریعے اس ملک کو بھی اپنی سلطنت میں شامل کرنے کی کوشش کی۔ آج کسی ملک کے پاس بھی ایسا کوئی جواز نہیں ہے کہ ایران کو اپنی سرزمین سے استفادہ نہ کرنے کا مشورہ تک دے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ