بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛
امریکہ نے ایران پر اسرائیلی حملے اور غزہ میں اس کے ہاتھوں فلسطینیوں کی نسل کشی میں اسرائیل کا ساتھ دیا ہے۔ اس حمایت کے ایک بڑے حصے کی جڑیں واشنگٹن کے دیرینہ علاقائی اور تزویراتی مفادات میں پیوست ہیں۔
لیکن ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ میں اور اس کے بعد سے، مشہور عیسائی صہیونیوں نے بعض اوقات مشرق وسطیٰ کے تنازعات کو بائبل کی اصطلاحات کے سانچے میں بیان کیا ہے، اور اسرائیل کے لئے اپنی حمایت کا جواز فراہم کرنے کے لئے بائبل کا حوالہ دیا ہے۔
عیسائی صہیونیت (Christian Zionism) ایک سیاسی اور مذہبی نظریہ ہے جو مقدس سرزمین میں یہودیوں کی واپسی کی وکالت کرتا ہے، ایک ایسا علاقہ جو جدید دور کے اسرائیل اور اسرائیل کے زیر قبضہ فلسطین کے ساتھ ساتھ مصر، لبنان، شام اور اردن کے کچھ حصوں پر محیط ہے۔
عیسائی صہیونیوں کا کہنا ہے کہ یہ واپسی بائبل کی پیشین گوئیوں کو پورا کرے گی اور یسوع مسیح کی دوسری آمد اور آخر الزمان کے آن پہنچنے کا سبب بنے گی، جس وقت تمام مسیحی مؤمنین کو ـ خواہ وہ زندہ ہوں خواہ مردہ ـ اچانک آسمان پر لے جایا جائے گا۔ عیسائی صہیونیوں کا خیال ہے کہ مقدس سرزمین پر واپس آنے کے بعد یہودیوں کو عیسائیت اختیار کرنا ہوگی۔ [یہودی شاید تمہیدات میں عیسائی صہیونیوں کے ساتھ اعتقادی اشتراک رکھتے ہوں لیکن وہ اس نتیجے کے قائل نہیں ہے کہ وہ بالآخر عیسائی بن جائیں گے]
صہیونی عیسائیت کی جڑیں
صہیونی عیسائیت کی جڑیں سولہویں صدی کے اوائل کے یورپ میں مذہبی اصلاحات کے بعد کے دور سے جا ملتی ہیں، ایک عیسائی فرقہ وارانہ تقسیم، جس میں پروٹسٹنٹ عیسائی کیتھولک چرچ سے الگ ہو گئے۔
اس عرصے کے دوران، انگلینڈ اور اسکاٹ لینڈ کے کچھ پروٹسٹنٹ ماہرینِ الہٰیات نے یہودیوں کو بائبل (کتاب مکاشفات) کی پیشینگوئیوں کی تکمیل ـ بشمول عیسائی ہزاریہ (Christian Millennium) کی آمد ـ کے لئے ضروری سمجھا۔
اس طرح کے عقائد یہودی صہیونیت کے موافق تھے، جسے سنہ 1890ع کی دہائی سے سیکولر یہودی پرچہ نویس (Pamphleteer) تھیوڈور ہرزل (Theodor Herzl) نے رائج کیا تھا۔
برطانیہ اور دیگر جگہوں پر، برطانوی وزیر خارجہ آرتھر بالفور (Arthur James Balfour) سمیت بہت سے سیاست دان صہیونی عیسائیت کے ہمدرد تھے اور بالفور نے ہی صہیونی ریاست کی تاسیس کا اعلامیہ گذشتہ صدی کی دوسری دہائی میں جاری کیا تھا.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر: ذینئل ٹیسٹر
فارسی ترجمہ: سید مہدی سیدی
اردو ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ