17 مئی 2026 - 14:42
حصۂ دوئم | عیسائی صہیونیت؛ اور امریکہ اور اسرائیل پر اس کے اثرات / ایران پر جارحیت میں صلیبی عنصر کا وسیع استعمال

مڈل ایسٹ آئی میں شائع ہونے والے ایک مضمون کے مطابق، انجیلی بشارت کے اس عیسائی عقیدے کو یہودیوں نے توہین آمیز قرار دیا ہے جس کو پیٹ ہیگستھ (Pete Hegseth)، مائیک ہکابی (Mike Huckabee) اور دیگر کی حمایت حاصل ہے۔ وہ اس عقیدے کو ایران کے خلاف جنگ میں، وسیع پیمانے پر، استعمال کر رہے ہیں۔ پیٹ ہیگستھ اور وزیر خارجہ مارکو روبیو سمیت ڈونلڈ ٹرمپ ٹیم کے بہت سے لوگ نیز فوج کے کئی کمانڈر اس عقیدے کے پرچارک ہیں اور ایران کے خلاف جنگ کو آخر الزمان کی مدہبی-تہذیبی جنگ قرار دے رہے ہیں، اور تہذیبی تقابل کے لئے تاریخ کے اوراق میں پناہ لینے پر مجبور رومن امپائر کی ترجمانی کا دعویٰ کرتے ہیں کیونکہ ڈھائی سو سالہ جعلی امریکی سلطنت کی اپنی کوئی تہذیب نہیں ہے جو ہزاروں سالہ ایرانی تہذیب کی برابری کر سکے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛

آج کل کون سے لوگ صہیونی عیسائیت پر یقین رکھتے ہیں؟

آج کل، صہیونی عیسائیت کے عقائد زیادہ تر انجیلی مسیحیوں میں نمایاں ہیں۔

مختلف اندازوں کے مطابق، دنیا بھر میں انجیلیوں کی تعداد 30 کروڑ سے 60 کروڑ ملین کے درمیان ہے، جبکہ دنیا میں مسیحیوں کی کل تعداد دو ارب سے زیادہ ہے۔

ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں، سال 2024 کے اعدادوشمار کے مطابق، سات کروڑ 30 لاکھ امریکیوں نے خود کو انجیلی پروٹسٹنٹ قرار دیا (جو آبادی کا 21 فیصد حصہ ہے)۔

سال 2020 کے تازہ ترین سروے کے مطابق، ریاست ہائے متحدہ میں 58 لاکھ یہودی موجود تھے۔

امریکہ میں نصف سے زیادہ انجیلی عیسائی جنوبی اور جنوبی وسط مغربی ریاستوں میں رہتے ہیں، ان ریاستوں کو ملا کر کبھی کبھار "بائبل بیلٹ" کہا جاتا ہے، جہاں وہ ایک بنیادی ووٹ بلاک بھی تشکیل دیتے ہیں۔

ریپبلکن پارٹی نے 1960 کی دہائی سے اس علاقے پر غلبہ حاصل کر رکھا ہے: اس علاقے کی ہر ریاست نے 2024 کے امریکی صدارتی انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ کو ووٹ دیا۔

امریکی سیاست پر صہیونی عیسائیت کے اثرات

صہیونی عیسائی انجیلی ایک صدی سے زائد عرصے سے ریاست ہائے متحدہ کی پالیسی سازی پر اثر انداز رہے ہیں۔

آج کل، ٹرمپ انتظامیہ کے کلیدی ارکان خود کو صہیونی عیسائی سمجھتے اور اپنے اس تفکر پر فخر کرتے ہیں، جن میں پیٹ ہیگستھ (وزیر جنگ)، اسرائیل میں امریکی سفیر مائیک ہکابی Mike Huckabee))، ایوان نمائندگان کا ریپبلکن سپیکر جیمز مائیک جانسن (James Michael Johnson)، اور ٹرمپ کی ذاتی روحانی مشیر پاؤلا وائٹ کین (Paula White-Cain) شامل ہیں۔

پاؤلا وائٹ کین نے جولائی 2024 میں کہا: "ہمیں انسانیت کی تاریخ کے اس اہم موڑ پر، اسرائیل کے ساتھ کھڑے ہونے کے لئے بلایا گیا ہے! یہ سیاست کے بارے میں نہیں ہے؛ یہ خدا کے کلام کے موافق زندگی بسر کرنے کے بارے میں ہے!"

سنہ 2020ع‍ میں، ٹرمپ نے کہا: "آپ جانتے ہیں، یہ حیرت انگیز ہے کہ انجیلی عیسائی، اسرائیل کے سفارت خانے کی منتقلی پر یہودی لوگوں سے زیادہ پرجوش ہوتے ہیں، یہ ناقابل یقین ہے!"۔

اسرائیل لابی نے صہیونی عیسائیت کے ذریعے اسرائیل کی حمایت کو امریکی یہودی برادری کے بعض حصوں سے آگے بڑھا دیا ہے۔

البته، امریکی انجیلیوں میں صہیونی عیسائیت کی حمایت کم ہو رہی ہے۔ اس وجہ سے کہ انجیلی برادری کے بعض حصے اسرائیل کے رویے سے پریشان ہو گئے ہیں۔ اسرائیل کی غزہ میں نسل کشی کے دوران، ریاست ہائے متحدہ کی آبادی کے تمام حصوں ـ بشمول انجیلیوں ـ کے درمیان اسرائیل کی حمایت میں کمی آ رہی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تحریر: ذینئل ٹیسٹر

فارسی ترجمہ: سید مہدی سیدی

اردو ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha