15 مئی 2026 - 07:35
حصۂ دوئم | اسرائیلی ہمیں بے وقوف بنانے کے بعد، پیٹھ پیچھے، امریکہ پر ہنس رہے ہیں، سابق سی آی اے افسر

امریکی مرکزی انٹیلیجنس ایجنسی (سی آئی اے) کے سابق افسر نے جمعرات کو زور دے کر کہا کہ امریکی حکومت اور کانگریس اسرائیل کے شدید اثر و رسوخ کے تحت ہے اور اسرائیلی امریکہ کو ایران کے ساتھ جنگ میں کھینچنے کی وجہ سے ہمارے ملک کا مذاق اڑاتے ہیں۔ / تہران ایسے معاہدے پر دستخط نہیں کرے گا جو ٹرمپ کے لئے باعث اعزاز ہو اور وہ اس پر فخر کر سکے۔ / ٹرمپ کا غصہ کم کرنے کے لئے آبنائے ہرمز پر اپنی حکمرانی سے دستبردار نہیں ہونگے۔ / ٹرمپ اپنے صدارتی دور کے آخر تک ناراض رہ سکتا ہے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ سی آئی اے کے سابق افسر جان کریاکو John Kiriakou) نے رک سانچز (Rick Sanchez) کے ساتھ انٹرویو میں امریکہ میں صہیونی لابیوں کے شدید اثر و رسوخ کے پر شدید فکرمندی کا اظہار کیا۔

سی آئی اے کے سابق افسر نے مزید کہا: "ایک اور مسئلہ جو نیتن یاہو نے ہم سے کہا، وہ اس سے پہلے بھی ہمیشہ یہی کہتا تھا، کہ ایران کی حکومت ایک کاغذی گھر ہے اور جیسے ہی پہلا راکٹ داغنا طے پائے گا، یہ گھر مکمل طور پر گر جائے گا۔ کوئی بھی جسے ایران کے بارے میں کسی بھی سطح پر معلومات تھیں، وہ جانتا تھا کہ یہ معاملہ مضحکہ خیز ہے اور اس میں کبھی کوئی حقیقت نہیں تھی۔"

 حصۂ اول | اسرائیلی ہمیں بے وقوف بنانے کے بعد، پیٹھ پیچھے، امریکہ پر ہنس رہے ہیں، سابق سی آی اے افسر

سابق سی آئی اے افسر، جان کریاکو

کریاکو نے کہا: "ٹرمپ نیتن یاہو کے اس جال میں پھنس گیا۔ ہم یہ تمام معاملات جانتے ہیں کیونکہ اسرائیلیوں نے اپنے ذرائع میں اس مسئلے پر فخر کیا ہے۔ بس یروشلم پوسٹ پڑھیں، نیتن یاہو نے یہ مسئلہ یروشلم پوسٹ کو لیک کیا اور سب کچھ افشا کر دیا اور پھر ہمارے پیٹھ پیچھے ہم پر ہنستے ہیں۔"

مختلف ماہرین اور سیاستدانوں نے ایران پر حملے کے خطرناک نتائج کے بارے میں بارہا خبردار کیا، اس کے باوجود امریکہ اور صہیونی ریاست نے ایران کے خلاف فوجی جارحیت شروع کر دی، یہ اقدام جو ایران کی مسلح افواج کے فیصلہ کن ردعمل کا سبب بنا اور جس کے نتیجے میں آبنائے ہرمز بند ہو گیا اور دنیا میں ایندھن کی قیمتوں میں شدید اضافہ ہؤا۔

نکتہ:

دوسری طرف سے امریکہ کو بہت بڑی شکست اور ایران کی طرف سے تاوان جنگ کے مطالبے کا سامانا ہے جس پر ٹرمپ نے شدید ناراضگی کا اظہار کیا ہے، وہ البتہ عالمی ذرائع ابلاغ میں بھی امریکی شکست پر مبنی بیانیے کے فروغ سے بھی بہت ناراض ہے اور امریکہ کے اندر بھی جنگ کے حقائق شائع کرنے والے ذرائع کے خلاف قانونی کاروائی کا اعلان کر چکا ہے، لیکن بہرحال ایک استکباری، مغرور اور خود کو فرعون سمجھنے والے شخص کے لئے سب سے زیادہ ایران کی طرف سے تاوان کی ادائیگی کے مذاکرات کی پیشگی شرط قرار دینے پر اس کا غصب انتہاؤں پر ہے۔ کیونکہ ٹرمپ نے امریکہ دوبارہ باعظمت بنانے کا نعرہ لگایا تھا اور ایران کو تاوان کی ادائیگی کا مطلب امریکی سلطنت کا ہمیشہ ہمیشہ کے لئے خاتمہ ہوگا۔

ٹرمپ کی ناراضگی کتنی اہم ہے؟

اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے:

- ایران ٹرمپ کا بھرم رکھنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔

- تہران ایسے معاہدے پر دستخط نہیں کرے گا جو ٹرمپ کے لئے باعث اعزاز ہو اور وہ اس پر فخر کر سکے۔

- ٹرمپ کا غصہ کم کرنے کے لئے آبنائے ہرمز پر اپنی حکمرانی سے دستبردار نہیں ہونگے۔

- ٹرمپ اپنے صدارتی دور کے آخر تک ناراض رہ سکتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha