بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛
* سابق امریکی صدر بارک اوباما نے نیویارکر سے گفتگو میں امریکی صورتحال کو "غیرمعمولی بحران" قرار دیا ہے۔ امریکہ کے اندرونی واقعات کی سطح مغربی ایشیا کے علاقے سے بھی کہیں زیادہ سنگین ہے۔ "امریکی ترتیب" (American Order) تباہ ہو رہی ہے اور اس ترتیب سے وابستہ تمام سہاروں کو بھی اپنے ساتھ گرا رہی ہے، یہ کہ مختلف یورپی ممالک اور امریکہ کے اتحادیوں نے اسے تنہا اور الگ تھلگ چھوڑ رکھا ہے، یہ اس ترتیب کی گرتی ہوئی عمارت کے وسیع ملبے سے بچنے کے لئے ہے۔ [امریکی ترتیب = American Order = American Empire]
* نیٹو تنظیم ٹوٹ چکی ہے، وہی نیٹو تنظیم جو مشرق کے مقابلے میں مغرب کو قائم و محفوظ رکھنے رکھنے کا سب سے اہم بازو تھی۔
دنیا میں امریکہ کی طاقت بنیادی طور پر جزیرے جیسی طاقت نہیں تھی بلکہ ایک نیٹ ورک سے عبارت تھی؛ دنیا بھر کے 80 ممالک میں 750 امریکی فوجی اڈے، ایک لاکھ 73 ہزار فوجی ایک مربوط نیٹ ورک کو تشکیل دیتے تھے، جب دنیا کے اہم ترین اور امیر ترین مقام میں امریکی اڈے تباہ ہو رہے ہیں، تو پوری دنیا میں اس کا مطلب واضح ہے؛ [سوال: دوسرے ممالک میں سینکڑوں امریکی اڈوں کا انجام کیا اس سے مختلف ہوگا؟]
ہر اڈے کا مطلب ـ "بڑی طاقت کے سائے میں تحفظ کا عنصر" سے تبدیل ہو کر "عدم تحفظ اور خطرے کا عنصر" ـ بن جاتا ہے، علاقے میں امریکی اقتصادی کمپنیوں کو نقصان پہنچانے کا بھی یہی مطلب ہے۔
* اوباما جس غیرمعمولی بحران کی تشریح کر رہے ہیں، اس کی ایک سمت اسرائیل کی حمایت کی روایتی امریکی پالیسی کا زوال اور خاتمہ ہے۔
توجہ کیجئے: تقریباً تین سال سے امریکہ اپنا سب کچھ، اپنی عزت اور اپنی بالادستی اسرائیل پر خرچ کرتا آیا ہے، غلط تجزیہ یہ ہے کہ آپ کہہ دیں کہ "نیتن یاہو نے اسے مجبور کیا،"
سوال: نیتن یاہو کیا ہے؟
جواب:
- اسرائیل دنیا میں امریکی نظام کا سب سے اہم ستون ہے،
- اس بغاوت زدہ دنیا کے مسلمانوں کو کنٹرول کرنے والا عنصر،
- دنیا کے امیر ترین خطے میں ایندھن اور دولت کے انتظام کا عنصر،
- دنیا کی تمام روحانی تہذیبوں پر تہذیبی دباؤ اور ضرب لگانے والا عنصر؛ یہ اسرائیل ہے۔
اب ایران کا اسرائیل پر حملہ معاملے کو اس مقام پر لے آیا ہے کہ امریکہ اپنی آخری دولت بھی خرچ کر رہا ہے تاکہ اس تہذیبی کامیابی کو برقرار رکھ سکے۔ اسرائیل اول، یہ ٹرمپ کی ضد نہیں بلکہ ایک امریکی اسٹریٹجک پالیسی ہے۔ اگر یہ پالیسی بے نقاب ہو گئی ہے تو یہ ایران کا کام ہے، اگر بے عزت ہو گئی ہے تو یہ بھی ایران کا کام ہے، اور اس کا مطلب اسرائیل کے آخری سانس لینا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر: علی مہدیان
ترتیب و ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ