بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ اسلامی جمہوریہ ایران کی سیکورٹی فورسز کے ایک سینئر کمانڈر بریگیڈیئر جنرل منتظر المہدی نے اعلان کیا:
اسلامی جمہوریہ ایران کے مختلف شہروں پر امریکی-اسرائیلی بمباریوں کی شدت کے دوران تقریبا بیرون ملک مقیم ساڑھے چھ لاکھ ایرانی وطن واپس آگئے ہیں۔"
انھوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم ایرانی باشندے تیسری مسلط کردہ جنگ کے دوران فضائی سفر کے عدم امکان کے باعث زمینی سرحدوں سے ملک میں واپس آئے ہیں؛ اور خلاف معمول "الٹی نقل مکانی" کا غیرمعمولی رجحان دیکھنے میں آیا۔
ان کا کہنا تھا کہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، 62 فیصد (6 لاکھ 30 ہزار سے زائد) افراد زمینی سرحدوں کے ذریعے ایران میں داخل ہوئے ہیں جبکہ صرف 38 فیصد نے بیرونی سفر اختیار کیا ہے۔
انھوں نے کہا: یہ رجحان دنیا کی اکثر جنگوں (یوکرین، شام اور صہیونی ریاست) کے برعکس ہے جہاں جنگ شروع ہوتے ہی لوگ معمول کے مطابق، ملک چھوڑ کر بھاگ گئے اور مقبوضہ فلسطین سے یہودی آبادکاری کی نقل مکانی میں مزید اضافہ ہؤا ہے۔
وطن کے دفاع کے لئے ایرانیوں کی وطن واپسی کے ساتھ ساتھ ملک کے اندر تین کروڑ 20 لاکھ سے زائد افراد نے جنگ میں شامل ہونے کے لئے "جان فدائے ایران" مہم میں رجسٹریشن کرائی ہے اور ملکی دفاع کے لئے آمادگی اور استعداد کا کا اعلان کیا ہے؛ اور یہ عدیم المثال اور لازوال تاریخی واقعات جن کی دنیا کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی اور اس کا ایک سیدھا مطلب نظام اسلامی پر عوامی اعتماد، قومی یکجہتی اور ملک کی دفاعی صلاحیتوں پر عوامی بھروسہ ہے۔
یہ رویہ ثابت کرتا ہے کہ عوام حکومت کو اپنی سرزمین اور سالمیت کا محافظ سمجھتے ہیں۔ تاریخی اور ثقافتی طور پر ایرانیوں کا اپنی سرزمین سے جذباتی لگاؤ ہے، اور بحران میں یہ وطن واپسی محض انفرادی فیصلہ نہیں بلکہ قومی شناخت کا عملی اظہار ہے۔ یہ اسلامی جمہوریہ ایران کی کامیاب حکمرانی اور عزت نفس اور خوداعتمادی کے فروغ کا ثمرہ ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترتیب و ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ