2 مئی 2026 - 20:49
حصۂ اول | ایران جنگ کے بعد ابھرنے والی طاقت ہوگا/ نیتن یاہو امریکہ کو قلعہ شکن مشین سمجھتا ہے، گریگ سائمنز

پولیٹیکل سائنس کے پروفیسر، گریگ سائمنز کہتے ہیں کہ ہم ایک مختلف دور میں داخل ہو رہے ہیں جو ممکنہ طور پر 'پوسٹ پیکس امریکانا' (امریکی امن کے بعد) کا دور اور صہیونی پراجیکٹ کا خاتمہ ہوگا، جبکہ ایران اس دور میں ابھرنے والی طاقت ہے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || ایران کے خلاف امریکی-صہیونی جارحانہ جنگ نہ صرف اعلان کردہ اہداف، ـ یعنی بشمول ایران کے اسلامی جمہوریہ کے نظام کی تبدیلی اور ایٹمی اور میزائل پروگراموں کی تباہی، ـ تک نہیں پہنچی، بلکہ اس نے ایران کو ایک عظیم عالمی طاقت میں تبدیل کر دیا جو اگر چاہے تو آبنائے ہرمز میں پوری دنیا کی معیشت کو یرغمال بنا سکتا ہے۔

'گریگ سائمنز'، نیوزی لینڈ کے تجزیہ کار اور پولیٹیکل سائنس اور بین الاقوامی مواصلات کے پروفیسر ہیں جنہوں نے مشرق نیوز کے ساتھ گفتگو میں تیسری جارحانہ جنگ، حملہ آوروں پر اس کے اثرات، اور ایران کے مستقبل پر اس کے اثرات کے بارے میں مزید وضاحت کی ہے۔

سوال: اب جب کہ ہم بات کر رہے ہیں، ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور کے امکان کی خبریں ہیں۔ لگتا ہے کہ موجودہ جنگ بندی تک پہنچنے والی پیشرفت امریکی حکومت کی طرف سے ایران کی 10 نکاتی تجویز کی قبولیت کے نتیجے میں ہوئی۔ لیکن موجودہ حالات میں، کیا اسرائیل امریکہ کو ان شرائط پر جنگ کے حتمی خاتمے اور پائیدار امن کے حصول کے لئے اتفاق کرنے کی اجازت دے گا؟ یا آپ کے خیال میں اسرائیل فوجی کارروائی کی طرف لوٹنے کو ترجیح دے گا؟ چاہے اس آپشن کا مطلب مزید خون اور دولت کی قربانی اور امریکہ کی اخلاقی ساکھ کے مزید گراوٹ ہی کیوں نہ ہو؟

جواب: میرے خیال میں، یہ معاملہ خود اسرائیل سے زیادہ، واضح طور پر نیتن یاہو کی حکومت سے متعلق ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ وہ جنگ کے امتداد کو اپنے ذاتی مفاد میں دیکھتا ہے، کیونکہ جیسا کہ ہم نے اس نسبتاً کمزور 'نام نہاد جنگ بندی' کے دوران دیکھا، اسرائیلی پولیس نے دوبارہ بدعنوانی اور اقتدار کے غلط استعمال کے بارے میں اپنی فعال تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

اس لئے اسے اس جنگ کے تسلسل کی ضرورت ہے تاکہ اپنے نحوست زدہ وجود کو اسرائیل کی جیلوں سے باہر رکھ سکے؛ ان جرائم کی وجہ سے نہیں جو اس نے دنیا کے خلاف کئے، بلکہ ان جرائم کی وجہ سے جو اس نے خود اسرائیلی آبادکاروں پر ڈھائے ہیں۔ نیتن یاہو ایک مطلق نرگسی (Narcissist) اور خودغرض ہے؛ اس کی خودغرضی ناقابلِ یقین ہے۔ وہ صرف اپنے بارے میں سوچتا ہے۔ [اس کا نعرہ] 'سب سے پہلے نیتن یاہو' ہے؛ اور اس نے دکھا دیا ہے کہ وہ نہ صرف امریکہ کا خون اور دولت، بلکہ اسرائیل کا خون اور دولت بھی اپنے ذاتی مفادات پر قربان کرنے کو تیار ہے۔ ہم اسلام آباد میں دیکھ رہے ہیں کہ 'جے ڈی وینس' نیتن یاہو کو رپورٹ کرتا ہے [اور اس سے ہدایات لیتا ہے]، جو واقعی حیران کن ہے۔ امریکہ میں طاقت کا دوسرے نمبر کا کردار "نائب صدر" غیر ملکی حکومت کے سربراہ سے ہدایات لیتا ہے؛ وہ بھی نیتن یاہو جیسے قابل نفرت شخص سے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

 

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha