بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || ایران کے خلاف امریکی-صہیونی جارحانہ جنگ نہ صرف اعلان کردہ اہداف، ـ یعنی بشمول ایران کے اسلامی جمہوریہ کے نظام کی تبدیلی اور ایٹمی اور میزائل پروگراموں کی تباہی، ـ تک نہیں پہنچی، بلکہ اس نے ایران کو ایک عظیم عالمی طاقت میں تبدیل کر دیا جو اگر چاہے تو آبنائے ہرمز میں پوری دنیا کی معیشت کو یرغمال بنا سکتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
سوال: ایسا لگتا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش ایران کی طرف سے ایک ذہانت پر مبنی اقدام تھا؛ کم از کم اس وجہ سے کہ اس نے جنگ کے نتائج کا مزا امریکہ اور اس کے عوام کو چکھا دیا۔ کیا آپ اس معاملے کے علاوہ اور اسے مدنظر رکھتے ہوئے، کوئی علامت دیکھتے ہیں کہ جنگ امریکہ میں معاشی اثرات پیدا کر رہی ہے؟
جواب: جی ہاں، بالکل یقینی طور پر، کیونکہ مسئلہ صرف توانائی نہیں ہے، بلکہ کھادیں اور بہت سی دوسری چیزیں بھی ہیں۔ آپ وسیع پیمانے پر مشکلات دیکھ رہے ہیں؛ جو نہ صرف ان لوگوں کو درپیش ہیں جن کی آپ توقع کرتے ہیں، جیسے روزانہ سفر کرنے والے، فضائی سفر یا کوئی بھی چیز جو فوسیل فیول استعمال کرتی ہے، بلکہ آپ کے پاس کھاد بھی نہیں ہے؛ جبکہ اب فصل کے موسم کا آغاز ہے۔ لہٰذا، مختصر مدت میں ہم توانائی کی قیمتوں اور اس کے نتائج کے بارے میں بات کریں گے، لیکن درمیانی اور طویل مدت میں، ہم دیگر نتائج کے بارے میں بات کریں گے جن میں خوراک کی سلامتی بھی شامل ہے جو خطرے میں پڑ جائے گی۔ اور اس کے علاوہ، دوسرے عناصر تک رسائی کا مسئلہ بھی پیدا ہوگا۔ مثال کے طور پر، آپ چپ اور مائیکرو چپ کیسے بنانا چاہیں گے؟ کیونکہ ان کی تیاری کے لئے ضروری گیسیں اور مواد روکے گئے ہیں۔ عالمی سپلائی محدود ہو گئی ہے۔
امریکی شہری اس سے جو کچھ دنیا میں ہو رہا ہے، مکمل طور پر بےخبر ہیں، اور صرف اس وقت دلچسپی لیتے ہیں جب معاملہ ان کی جیب کو نقصان پہنچتا ہے۔ اب [ایران کی جنگ] واقعی ان کی جیب پر اثر انداز ہو رہی ہے، اور ڈونلڈ ٹرمپ، 'سب کے محبوب جھوٹے دیوتا' [اشارہ اس تصویر کی طرف ہے جس میں ٹرمپ نے مسیح بننے کا ڈرامہ کیا تھا] کو اس صورتحال کا ذمہ دار سمجھا جا رہا ہے۔ وہ [امریکی شہریوں سے] کہہ رہا ہے کہ آپ کے معاشرتی مراعاتیں بند کر دی گئی ہیں، نچلے طبقوں کے لئے صحت کی دیکھ بھال، تعلیم اور سماجی تحفظ۔ یہ سب کچھ اس لئے بند کر دیا گیا ہے تاکہ یہ لوگ ایران کے خلاف ایک 'انتخابی جنگ' کے اخراجات برداشت کریں۔ لوگ اب واقعی ماضی کی طرح حب الوطنی کا جذبہ نہیں رکھتے۔
اس کے علاوہ، ہم نے ایسے لوگوں سے مکمل طور پر چونکا دینے والے اعترافات دیکھے ہیں جن کی ہم ان سے توقع نہیں کر رہے تھے؛ جیسے سابق سی آئی اے چیف 'جان برینن (John Brennan)'۔ اس نے ایک براہِ راست ٹیلی ویژن انٹرویو میں کہا: "میں اس بات پر زیادہ اعتماد کرتا ہوں جو ایرانی عہدیدار کہہ رہے ہیں بجائے اس کے جو ٹرمپ کہہ رہا ہے۔" بہت سی چیزیں ہیں جن پر میں شرط لگا سکتا ہوں، لیکن یقیناً یہ ان میں سے ایک نہیں تھی، کیونکہ ایسی چیز بہت دور از قیاس تھی۔ لیکن بہرحال، صورت حال ایسی ہی ہے۔
سوال: کچھ لوگ پہلے ہی جنگ کے بعد ایران کے ایک عظیم عالمی طاقت کے طور پر ابھرنے کے بارے میں بات کر رہے ہیں، جس کے پاس ایک زبردست ہتھیار ہے جو شاید ایٹمی ہتھیار سے بھی زیادہ مؤثر ہے۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ ایران نے پہلے ہی بحیرہ عمان اور خلیج فارس میں اپنا ایٹمی ہتھیار آزمایا لیا ہے۔ آپ کے خیال میں جنگ کے بعد ایران کے ساتھ کیا ہوگا؟ آپ کی رائے کیا ہے؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ