بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ||
ٹرمپ جھوٹ بولتا ہے، کھل جائے تو چھپانے کے لئے جھوٹ بولتا ہے، اور یہ باطل تسلسل جاری رہتا ہے۔ ایک ماہر نفسیات نے کہا کہ ٹرمپ چونکہ فکرمند رہتا ہے اس لئے کم سوتا ہے اور وہم میں مبتلا ہوجاتا ہے اس کے ذہن میں ایک اسپیس بن جاتا جس میں وہ [اپنے خیال میں] ایرانیوں کے ساتھ براہ راست مذاکرات کرتا ہے، بڑی ہنسی خوشی سے اس کی تمام باتیں مانی جاتیں اور وہ خوش ہوکر تھوڑی دیر کے لئے سوجاتا ہے اور اٹھ کر ٹویٹ لگاتا ہے کہ "میری بات ہوئی ایرانی کمزور پڑ گئے ہیں اور وہ ہمیں وہ سب کچھ دینے کے لئے تیار ہیں وغیرہ۔۔۔ وہ اپنے نفسیائی خلا میں مذاکرات کرکے اس نتیجے پر اس لئے پہنچتا ہے کہ ہیگستھ اور روبیو جیسے لوگ اس کو جنگ کی خبریں نہیں پہنچنے دیتے اور وہ ابھی تک نہیں جانتا کہ ٹرمپ کا امریکہ اس جنگ میں ہار گیا اور ایران وہ ملک نہیں ہے جس کو پسپا ہوکر ہتھیار ڈالنا چاہئے بلکہ جو ہارا ہے اس کو ہتھیار ڈالنا ہوتے ہیں۔ چنانچہ:
ٹرمپ نے منگل کے روز دعویٰ کیا: "ایران نے امریکہ سے کہا ہے کہ یہ ملک "ٹوٹ" رہا ہے اور چاہتا ہے کہ آبنائے ہرمز جلد از جلد کھل جائے!"
حالانکہ ایران کا موقف اس کے برعکس ہے اور کہتا ہے کہ "ایران نہ صرف ٹوٹ نہیں رہا ہے بلکہ "وقت اس کے حق میں" کام کر رہا ہے۔ کسی بھی قسم کی بات چیت امریکی محاصرے کے خاتمے سے مشروط ہے۔"
کوئنسی انسٹی ٹیوٹ کے نائب سربراہ "ٹریٹا پارسی Trita Pars" نے ٹرمپ کے اس ٹویٹ کے جواب میں لکھا: "میں سمجھتا تھا کہ ٹرمپ ایک متوازی دنیا میں جی رہا ہے جہاں جنگ بہت اچھی طرح آگے بڑھ رہی ہے۔ اب میں قائل ہو رہا ہوں کہ اس کی غیرحقیقی باتوں کا سبب یہ ہے کہ وہ صحیح حقائق تک رسائی نہیں رکھتا۔"
برطانوی اخبارگارڈین نے لکھا:
ٹرمپ بری صورت حال میں پھنس گیا ہے اس کو ایران کے ساتھ کسی سمجھوتے پر پہنچنا ہی ہے، لیکن چاہتا ہے کہ یہ سمجھوتہ ایسا نہ ہو کہ جس سے امریکہ کی شکست عیاں ہو۔
ایران کے پاس آبنائے ہرمز میں ویٹو پاور جتنی طاقت ہے، سپاہ پاسداران کے الغدیر کور کمانڈر
صوبہ یزد میں الغدیر کور کے کمانڈر نے کہا: ایران کے پاس آبنائے ہرمز میں ویٹو پاور جتنی طاقت ہے۔ آج ایک چھوٹی کشتی کو بھی آبنائے ہرمز سے گذرنے کے لئے سپاہ پاسداران سے اجازت لینا پڑتی ہے۔
عالمی انشورنس صنعت زمینی حقائق کے سامنے ہاتھ اٹھا لئے
مغرب نے ایک آزاد کوریڈور کے ذریعے آبنائے ہرمز کو بائی پاس کرنے کی کوشش کی جو ناکام ہوئی، اور نہ صرف یہ بلکہ بین الاقوامی انشورنس کے ذمہ داروں نے ایران کے ساتھ براہ راست رابطہ کرکے اپنے مسائل حل کرنے کا اعلان کیا اور ایران کے ساتھ ہم آہنگی کو انشورنس رسک کی کوریج کی شرط قرار دیا۔
یہ خلیج فارس میں طاقت کو توازن میں واضح تبدیلی کا ایک اور، اعلان ہے۔ جس میں جہاز مالکان سے کہا گیا ہے کہ انہیں ایرانی اہلکاروں سے ہم آہنگ ہونا چاہئے ورنہ انہیں کوریج نہیں دی جا سکے گی۔
بیمہ کمپنیوں نے جہاز مالکان کو ہدایت کی ہے کہ پرامن جہازرانی کو یقینی بنانے کے لئے صرف اسی راستے سے کا اہتمام کریں جس کو ایران نے مجاز قرار دیا ہے۔
اس اعلان کا مطلب یہ ہے کہ بیمہ صنعت نے آبنائے ہرمز پر ایران کی حکمرانی کو تسلیم کر لیا ہے۔
ٹرمپ کی نجات کا واحد راستہ!
معمول کی ظاہری شیخیوں کے برعکس، لگتا ہے کہ ٹرمپ ایران کے ساتھ جنگ کے بھنور سے خود کو نجات دلانے کے لئے کوشاں ہے، اور تجزیہ کار کہتے ہیں کہ وہ درحقیقت اس تعطل سے بھاگنا چاہتا ہے جس کی وسعتیں نمایاں ہو چکی ہیں اور یہ ٹرمپ اور یہ مسئلہ اس کی جماعت کے لئے سیاسی المیہ بن گیا۔ لیکن تجزیہ کاروں کے مطابق اس جنگ سے آسان سا فرار بھی ٹرمپ کے لئے ناممکن نظر آتا ہے کیونکہ راستے یکے بعد دیگرے بند ہو رہے ہیں۔ اس تعطل اور ٹرمپ کی بے بسی کا ایک ثبوت یہ ہے کہ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ جنگ بندی میں توسیع کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا لیکن صرف دو گھنٹے بعد اس نے جنگ بندی میں غیر معینہ مدت تک توسیع کا اعلان کیا۔ یہ یقینا ایران میں کسی کمزوری کا ثبوت نہیں بلکہ امریکہ میں کمزوریاں نمایآں ہونے کا ثبوت ہے۔
جے ڈی وینس اور نائب وزیر جنگ کیا کہتے ہیں:
امریکہ کے نائب صدر نے کہا ہے کہ امریکہ کے پاس ایئرڈیفنس کے میزائلوں کا بہت بڑا حصہ ایرانی حملے روکنے پر خرچ ہؤا ہے اور یہ ذخیرہ دوبارہ پورا کرنے پر چار سال کا عرصہ لگتا ہے۔ وینس ـ جو ان دنوں نادان ترین وزیر جنگ ہیگسیتھ کے ساتھ شدید اختلافات میں الجھا ہؤا ہے ـ نے یہ بھی کہا ہے کہ وزیر جنگ، ٹرمپ کو جنگی حقائق سے باخبر نہیں ہونے دیتا۔
دوسری طرف سے نائب وزیرجنگ نے کہا کہ امریکہ کے پاس جدیدترین ایرانی میزائلوں سےبچنے کے لئے کوئی مؤثر دفاعی نظام نہیں ہے اور یہ کہ دفاعی میزائلوں کی دوبارہ تیاری پر کئی سال کا عرصہ لگتا ہے اور اس سے اہم یہ کہ اس نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں امریکہ کے تمام ایئرڈیفنس سسٹمز ایرانیوں کے ہاتھوں تباہ ہو چکے ہیں اور اس خطے میں امریکہ کے پاس صرف ایک سنگل لیئر دفاعی نظام ہے۔
تو اب سوال یہ ہے کہ کیا ایران کی صلاحیتوں کے بارے میں ٹرمپ کے وہمیہ کلمات پر یقین کیا جا سکتا ہے؟
مختصر سا تبصرہ:
ٹرمپ کو جنگ میں شکست ہوئی لیکن اس کو گویا معلوم ہی نہیں ہؤا کہ ہؤا کیا ہے چنانچہ اس نے تقریبا 70 مرتبہ فتح کا دعویٰ کیا لیکن اسلام آباد کے ناکام مذاکرات کے بعد سے سے اس کو فکرمندی لاحق ہوئی ہے جہاں ایران کے دانشور سفارتکاروں کو ایک پراپرٹی ڈیلر(وٹکاف)، ایک تیل صنعت کے ڈيلر (کوشنر) اور ایک بالکل نابلد اور اپنے فکری تضادات میں گھرے ہوئے سیاستدان نائب صدر جے ڈی وینس سے بات چیت کرنا پڑی جو مذاکرات کے لئے نہیں بلکہ دلالی اور خرید و فروخت کے لئے، چنانچہ ایران کے پیشہ ور سیاستدان اور سفارتکار ـ جو نہ بروکر تھے اور نہ ہی ڈیلر اور نہ ہی ذاتی مفاد کے لئے گئے تھے ـ انہیں وہ کچھ نہ دے سکے جو وہ چاہتے تھے اور مذاکرات ناکام ہوگئے اور یہ امریکی حکومت اور اس کے خونخوار صدر کی پہلی سفارتی اور سیاسی شکست تھی۔ جس کے بعد ٹرمپ اور اس کے سوچ و فکر کی صلاحیت سے محروم حاشیہ بردار ٹویٹس کی فضا میں فتح و کامیابی کے دعوؤں سے گذر بسر کررہے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترتیب: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ