اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، میناب سانحہ کے متاثرین سے اظہارِ یکجہتی اور جنگ و تشدد سے متاثر ہونے والے معصوم بچوں کے حق میں آواز بلند کرنے کے مقصد سے "سولیڈیریٹی ود میناب – چلڈرن بیونڈ جیوپولیٹکس" کے عنوان سے ایک اہم پروگرام یشونت راؤ چوہان آڈیٹوریم، نریمن پوائنٹ، ممبئی میں منعقد کیا گیا۔ اس پروگرام کا اہتمام قلمکار پریشد (ممبئی چیپٹر) نے کیا تھا جبکہ اس کی نظامت و کوآرڈینیشن انجینئر سید ضیاء عظمیٰ نے انجام دی۔
پروگرام میں ملک کی ممتاز سماجی، علمی، عسکری اور ثقافتی شخصیات نے شرکت کی اور میناب سانحہ میں شہید ہونے والے بچوں کے اہل خانہ سے ہمدردی و یکجہتی کا اظہار کیا۔ مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ بچوں کی جانیں کسی بھی سیاسی یا جغرافیائی مفاد سے بالاتر ہیں اور انسانیت کا تقاضا ہے کہ ہر قسم کے ظلم و ناانصافی کے خلاف آواز بلند کی جائے۔
اپنے خطاب میں سابق رکن پارلیمان اور ممتاز قانون داں ایڈوکیٹ مجید میمن نے میناب سانحہ کو انسانیت کے ضمیر کو جھنجھوڑ دینے والا المیہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ جن بچوں کو والدین بہتر مستقبل کے خوابوں کے ساتھ اسکول بھیج رہے تھے، وہ جنگ کی بھینٹ چڑھ گئے۔ انہوں نے کہا کہ جنگ کبھی مسائل کا حل نہیں ہوتی بلکہ یہ صرف تباہی، مصائب اور انسانی دکھوں میں اضافہ کرتی ہے۔ انہوں نے اس سانحہ پر مؤثر عالمی ردعمل نہ آنے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر یکجہتی کی ضرورت پر زور دیا۔
بنگلور سے تعلق رکھنے والے ماہر تعلیم اور سماجی کارکن آغا سلطان نے کہا کہ معصوم بچوں کا قتل پوری انسانیت کے ضمیر پر ایک زخم ہے۔ انہوں نے کہا کہ 168 بچوں کی شہادت نے دنیا بھر کے انصاف پسند افراد کو غمزدہ کر دیا ہے۔ انہوں نے بین الاقوامی اداروں کی کارکردگی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ قراردادیں منظور ہونے کے باوجود انصاف اور جوابدہی کا فقدان برقرار ہے۔ آغا سلطان نے کہا کہ "میناب کا بچہ ہو یا غزہ کا، ماں کا درد ہر جگہ ایک جیسا ہوتا ہے۔" انہوں نے امام حسینؑ کی تعلیمات کا حوالہ دیتے ہوئے ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے کو اخلاقی ذمہ داری قرار دیا۔
ریٹائرڈ میجر جنرل (ڈاکٹر) جی ڈی بخشی نے اپنے خطاب میں ہندوستان اور ایران کے تاریخی و تہذیبی تعلقات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک نے مختلف ادوار میں بیرونی دباؤ اور چیلنجز کا سامنا کیا ہے۔ میناب میں 168 طالبات کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے اسے ایک بڑا انسانی المیہ قرار دیا اور متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کی۔ انہوں نے کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ قوموں کی استقامت، قربانی کا جذبہ اور اتحاد ہی انہیں مشکل حالات میں مضبوط بناتا ہے۔
معروف کالم نگار اور سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی کے مشیر سدھیندر کلکرنی نے بھی اپنے خطاب میں جنگوں کے انسانی اثرات پر تشویش کا اظہار کیا اور معصوم شہریوں بالخصوص بچوں کے تحفظ کو عالمی ترجیح قرار دیا۔
اس موقع پر رہبر معظم انقلاب اسلامی ایران کے ہندوستان میں نمائندے حجۃ الاسلام و المسلمین ڈاکٹر عبدالمجید حکیم الٰہی کا خصوصی ویڈیو پیغام بھی نشر کیا گیا۔ انہوں نے شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد ایرانی عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرنے پر ہندوستان کے عوام کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے مختلف طبقات کی جانب سے تعزیتی پیغامات، دعائیں اور ہمدردی کے اظہار نے دونوں ممالک کے عوام کے درمیان تاریخی دوستی اور باہمی احترام کو مزید مضبوط کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ غم کے لمحات میں ایسی یکجہتی قوموں کے درمیان اخوت اور بھائی چارے کو فروغ دیتی ہے۔
پروگرام میں ڈاکٹر عبد المجید حکیم الہی کے نائب ڈاکٹر محمد حسین ضیائی نیا، سابق راجیہ سبھا رکن اور سینئر صحافی کمار کیتکر سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی ممتاز شخصیات نے شرکت کی۔
اختتامی کلمات پیش کرتے ہوئے ڈاکٹر محمد رضا فاضل، سربراہ ایران کلچرل ہاؤس ممبئی، نے پروگرام کے منتظمین اور شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ پروگرام کے دوران ہندوستانی اسکول کے بچوں کی جانب سے بنائی گئی تصویریں اور خاکے میناب کے اسکول کو بھیجے جائیں گے تاکہ ہندوستانی بچوں کی جانب سے محبت، ہمدردی اور یکجہتی کا پیغام وہاں تک پہنچ سکے۔
پروگرام میں بڑی تعداد میں اسکولی طلبہ و طالبات نے شرکت کی۔ بچوں کی جانب سے امن، محبت اور انسانی ہمدردی کے موضوع پر تیار کردہ تصاویر کی نمائش بھی پروگرام کا اہم حصہ رہی۔ تقریب کے اختتام پر شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ دنیا بھر کے بچوں کو جنگ اور تشدد کے اثرات سے محفوظ رکھنے کے لیے اجتماعی کوششیں جاری رکھی جائیں گی اور انسانیت کے مشترکہ اقدار کو فروغ دیا جائے گا۔
آپ کا تبصرہ