بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کے مطابق، کیتھولک عیسائیوں کے عالمی پیشوا پوپ لیو چہاردہم نے افریقی دورے سے واپسی کے دوران روم جاتے ہوئے طیارے میں، ایران اور لبنان کے خلاف امریکی-اسرائیلی جنگ کی مخالتف پر مبنی موقف دہرایا۔
ایران کی جنگ پر پوپ لیو اور ٹرمپ کے درمیان کشیدگی حالیہ ہفتوں میں عروج کو پہنچی اور ذرائع کی سرخی بن گئی، یہاں تک کہ ٹرمپ نے ان کی توہین کی۔
کیتھولک پاپائے اعظم پوپ لیو چہاردہم امریکی شہری ہیں۔
انھوں نے افریقہ سے واپسی پر مسافر طیارے میں نامہ نگاروں سے بات چیت کرتے ہوئے ایران اور لبنان کے بچوں کو یاد کیا اور کہا: میرا مشن انجیل کی ترویج ہے۔
ایک نامہ نگار نے کہا: آپ نے بامینڈا-کیمرون میں امن اجلاس کے دوران ایک الٹی دنیا کی تصویر کشی کی جس میں کچھ ظالمین اس سیارے کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ آپ نے کہا کہ "امن کو اختراع نہیں کرنا چاہئے بلکہ اس کا خیر مقدم کرنا چاہئے"، ایران کے ساتھ تنازع پر ہونے والے مذاکرات افراتفری سے دوچار ہیں، اور عالمی معیشت پر بھاری منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ حالیہ مہینوں میں سوشل سوسائٹی اور طلباء بھی سڑکوں پر آئے ہیں، اور جوہری مسابقت کے بارے میں تشویش بڑھ گئی ہے، تو کیا آپ ایران میں حکومت کی تبدیلی کی امید رکھتے ہیں؟ آپ ایران، امریکہ اور اسرائیل سے کوئی مطالبہ کرنا چاہتے ہیں، کہ وہ اس تعطل کو توڑ دیں اور کشیدگی میں شدت لانے سے پرہیز کریں؟ اور کیا نیٹو اور یورپ کو بھی جنگ میں کودنا چاہئے؟
پوپ نے کہا: "میں اس جملے سے شروع کرنا چاہتا ہوں کہ ہمیں ایک نئی نگاہ کے ساتھ امن کی ثقافت کی ترویج کرنا چاہئے۔ عام طور پر جب ہم خاص قسم کے واقعات کا جائزہ لیتے ہیں، تو فوری جواب یہ رہا ہے کہ ہمیں تشدد، جنگ اور حملوں کے خلاف میدان میں آنا چاہئے۔ جو کچھ ہم نے دیکھا ہے یہ ہے کہ بہت سے بے گناہ افراد اپنی جانیں کھو بیٹھے ہیں۔"
پوپ لیو چہاردہم نے ذیل کے جملے بھی ادا کئے:
- میں نے حال ہی میں حملے کے پہلے روز مارے جانے والے بچوں کے اہل خانہ کا ایک خط دیکھا ہے۔ وہ اس واقعے میں اپنے بچوں کے قتل کی کیفیت بیان کرتے ہیں۔ مسئلہ یہ نہیں ہے کہ حکومت کی تبدیلی ہوتی ہوتی ہے یا نہیں بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ ہم ان اقدار کو ـ اتنے سارے بے گناہوں کے قتل کے بغیر ـ کیونکر ترویج دے سکتے ہیں جن پر ہم یقین رکھتے ہیں۔
- میں امن کے لئے بات چیت کی حوصلہ افزائی کرتا ہوں یوں کہ جنگ کے تمام فریق امن کو فروغ دیں، جنگ کا خطرہ ختم کریں، اور بین الاقوامی قوانین کا احترام کریں۔
- بہت اہم بات ہے کہ بے گناہ انسانوں کی جانوں کی حفاظت کی جائے حالانکہ اس جنگ میں اس مسئلے کو توجہ نہیں دی گئی ہے۔
- میرے پاس ایک مسلمان بچے کی تصویر ہے، جو میرے دورہ لبنان کے دوران "پوپ لیو خوش آمدید" کا پلے کارڈ اٹھایا ہؤا تھا اور جنگ میں مارا گیا۔
- میں کلیسا اور راہب یا پادری کے طور پر جنگ کی حمایت نہیں کر سکتا۔
- میں سب کو تلقین کرتا ہوں کہ ان مسائل کا جواب امن کی ثقافت سے اخذ کرنے کی کوشش کریں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ