اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق،ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ابھی تک آئندہ مذاکرات کے کسی نئے دور کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
انہوں نے ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ حالیہ عرصے میں سفارتی سطح پر کافی سرگرمیاں ہوئی ہیں اور توجہ جنگ کے خاتمے سے متعلق مذاکرات پر مرکوز رہی ہے۔
بقائی نے امریکہ کے رویے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف واشنگٹن سفارتکاری کی بات کرتا ہے جبکہ دوسری جانب ایسے اقدامات کرتا ہے جو کسی بھی طرح سنجیدہ سفارتی عمل کی عکاسی نہیں کرتے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جنگ بندی کے آغاز سے ہی امریکہ کی جانب سے وعدہ خلافیاں دیکھنے میں آئیں۔ ان کے مطابق، ابتدا میں جنگ بندی کے دائرہ کار پر اختلافات سامنے آئے اور بعد ازاں خلیج میں پیش آنے والے واقعات، خصوصاً آبنائے ہرمز میں پیش رفت، اس معاہدے کی خلاف ورزی کے مترادف ہیں۔
ترجمان نے حالیہ ایک بحری جہاز پر حملے کو بھی جنگ بندی کی خلاف ورزی اور جارحانہ اقدام قرار دیا اور کہا کہ اس طرح کے اقدامات ایران کے اعتماد کو مزید متاثر کرتے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ ایران اپنی قومی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے آئندہ کے لائحہ عمل کے بارے میں فیصلہ کرے گا۔
آپ کا تبصرہ