اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، یہ واقعہ 13 اپریل کو پیش آیا جب چینی کارگو جہاز، جس پر بھاری مقدار میں میتھانول لدا ہوا تھا، آبنائے ہرمز سے گزر کر بحیرہ عمان میں داخل ہو گیا۔ حیران کن طور پر یہ وہی ٹینکر ہے جس پر امریکہ برسوں قبل پابندی عائد کر چکا تھا، اس کے باوجود یہ جہاز ایرانی حدود سے گزرتے ہوئے بغیر کسی رکاوٹ کے آگے بڑھ گیا۔
خلیجی خطے میں کشیدگی کے درمیان آبنائے ہرمز میں امریکہ کی سخت ناکہ بندی کو ایک غیر متوقع چیلنج کا سامنا کرنا پڑا ہے، جہاں چین کا ایک میتھانول سے بھرا ٹینکر امریکی پابندیوں کے باوجود بحفاظت گزرنے میں کامیاب ہو گیا۔ اس واقعے نے نہ صرف امریکی حکمت عملی پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں بلکہ عالمی سطح پر طاقت کے توازن پر بھی نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ 13 اپریل کو پیش آیا جب چینی کارگو جہاز، جس پر بھاری مقدار میں میتھانول لدا ہوا تھا، آبنائے ہرمز سے گزر کر بحیرہ عمان میں داخل ہو گیا۔ حیران کن طور پر یہ وہی ٹینکر ہے جس پر امریکہ برسوں قبل پابندی عائد کر چکا تھا، اس کے باوجود یہ جہاز ایرانی حدود سے گزرتے ہوئے بغیر کسی رکاوٹ کے آگے بڑھ گیا۔
اطلاعات کے مطابق اس ٹینکر نے آبنائے ہرمز عبور کرنے کی دو کوششیں کیں۔ پہلی بار اسے کشم جزیرے کے قریب روک دیا گیا تھا، جہاں کچھ وقت انتظار کے بعد اسے دوبارہ روانگی کی اجازت ملی۔ دوسری کوشش میں جہاز کامیابی کے ساتھ آبنائے کو پار کر گیا اور بحیرہ عمان کی جانب روانہ ہو گیا، جہاں امریکی بحریہ کی بھاری موجودگی بھی بتائی جاتی ہے۔ میرین ٹریفک کے ڈیٹا کے مطابق یہ جہاز پہلے ہانگ کانگ کے جھنڈے تلے “فل اسٹار” کے نام سے چلتا تھا، تاہم اب یہ چینی پرچم کے ساتھ اپنا سفر جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس کی منزل چین کی بندرگاہ بتائی جا رہی ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ امریکی پابندیوں کے باوجود اس جہاز کا محفوظ گزرنا واشنگٹن کی پالیسی کے لیے ایک بڑا دھچکہ تصور کیا جا رہا ہے۔
اس پیش رفت سے قبل چینی وزیر دفاع ڈونگ جون نے امریکہ کو سخت الفاظ میں خبردار کیا تھا۔ انہوں نے واضح کیا تھا کہ آبنائے ہرمز چین کی توانائی ضروریات کے لیے ایک اہم راستہ ہے اور اس میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ چین کے مضبوط تجارتی اور توانائی معاہدے ہیں، جن میں مداخلت کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اس واقعے نے خلیجی خطے میں امریکہ کے اثر و رسوخ پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ ایک طرف چین نے اپنے موقف پر سختی دکھائی، تو دوسری طرف امریکی بحری موجودگی کے باوجود کسی قسم کی کارروائی نہ ہونا کئی سوالات کو جنم دے رہا ہے۔ ادھر ایران کی جانب سے اس ٹینکر کو ملنے والی اجازت اور سیکیورٹی بھی خاصی اہمیت کی حامل ہے، جو خطے میں بدلتے اتحادوں کی نشاندہی کرتی ہے۔ مجموعی طور پر یہ واقعہ عالمی سیاست میں ایک نئے مرحلے کی طرف اشارہ کرتا ہے، جہاں بڑی طاقتیں براہ راست ٹکراؤ سے گریز کرتے ہوئے اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے نئی حکمت عملیاں اختیار کر رہی ہیں۔
آپ کا تبصرہ