25 مارچ 2026 - 23:00
اے اہل سنت! ایران کی مدد کرنا سنت ہے، احمد الریسونی

مسلمان علماء کی عالمی ایسوسی ایشن کے سابق سربراہ نے اپنے پیغام میں اسلامی جمہوریہ ایران پر مسلط کردہ جنگ کے سلسلے میں اہم نکات بیان کئے ہیں۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || مسلمان علماء کی عالمی ایسوسی ایشن کے سابق سربراہ ڈاکٹر شیخ احمد الریسونی نے "عالمی قادمون فورم" کے نام اپنے خصوصی پیغام میں اہم نکات کی طرف اشارہ کیا جو حسب ذیل ہیں:

- کسی بھی بصارت و بصیرت والے پر پوشیدہ نہیں ہے کہ ایران پر مسلط کردہ جارحانہ اور مجرمانہ جنگ، غزہ اور فلسطین کی مظلوم قوم پر مسلط کردہ جنگ کا تسلسل ہے۔ اس جنگ کا مقصد اسرائیل کی خدمت اور برتری اور یہودی-صلیبی پروجیکٹ کو آگے بڑھانے کے لئے ہے۔

- اگر ایران کس قدس، فلسطین اور  مقاومت کی حمایت نہ کرتا تو آج وہ اسرائیل کا قابل اعتماد دوست ہوتا، اسرائیل کے مفادات کا تحفظ کرتا، عرب حکومتوں پر مسلط ہوتا جیسا کہ شاہ کے زمانے میں تھا۔

- مسئلۂ فلسطین اور اس کے بارے میں ایران کے موقف سے قطع نظر، ایران پر امریکی -اسرائیلی حملہ واضح جارحیت، محض ظلم و ستم اور صریح جرم ہے اور اس کا مقصد تحریف شدہ توریت کے افسانوں کے تحت صہیونی-صلیبی مقاصد کو خطے پر مسلط کرنا ہے۔

اس جنگ میں ایران کی حمایت کئی حقوق کی بنا پر، شرعی لحاظ سے تمام مسلمانوں پر فرض ہے:

1۔ مشترکہ دین اور مشترکہ ایمان اور قرآن کا

2۔ ہمسائیگی اور خونی رشتوں کا حق؛ ایران ہمارا قریبی، گہری جڑوں پر استوار اور پائیدار بھائی ہے جبکہ جارحین ہم سے دور ہیں اور ان کی یہاں آمد وقتی اور عارضی ہے۔ ہمارا اور ہماری اگلی نسلوں کا مستقبل ایران کے ساتھ رقم ہوتا ہے نہ کہ امریکیوں کے ساتھ۔

3۔ فلسطین اور قدس کی حمایت میں ایران کے قابل فخر موقف کا حق؛ "هَلْ جَزَاء الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُ؛ کیا نیکی کا بدلہ نیکی کے سوا کچھ اور ہے۔" (سورہ رحمان، آیت 60)

4۔ شریف انسانوں کے درمیان مشترکہ اخلاق اور کریمانہ اصولوں کا حق؛ جن میں سر فہرست مظلوم کی حمایت اور ظالم کو باز رکھنا شامل ہے۔

- ہمارے لئے نمونہ اور ہماری سنت کا سرچشمہ وہی برتر نمونہ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) کی ذات با برکات ہے۔ جیسا کہ ارشاد باری ہے: "لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَن كَانَ يَرْجُو اللَّهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ وَذَكَرَ اللَّهَ كَثِيراً؛ تمہارے لئے پیغمبر خدا کی ذات میں اچھا نمونہ پیروی کے لئے موجود ہے اس کے لئے جو اللہ اور روز آخرت کی امید رکھتا ہو اور اللہ کو خوب یاد رکھے." (سورہ احزاب، آیت 21)۔

- آپؐ نے 20 سال کی عمر میں قریش کے زعماء کے ساتھ حلف الفضول کے معاہدے میں حصہ لیا۔ یہ معاہدہ مظلوموں کی مدد اور ظالموں سے غصب شدہ حقوق چھین لینا تھا۔

- اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے اپنی بعثت کے بعد اس معاہدے کی توثیق کرکے اسے اسلام میں ضم کر لیا۔

- امر بالمعروف اور نہی عن المنکر اسلام کی عظیم علامتیں ہیں، بدترین برائی آج کے زمانے میں فلسطین اور ایران پر مسلط کردہ صہیونی-صلیبی جنگیں ہیں اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) اسوہ حسنہ ہیں جو فرماتے ہیں: "اگر تم میں سے کسی نے کسی برائی کو دیکھا تو اسے ہاتھ سے بدل دے، اور اگر ممکن نہ ہؤا تو زبان سے اسے تبدیل کرے اور اگر ممکن نہ ہؤا تو اپنے دل میں کی مذمت کرے؛ اور ایمان کا سب سے کمزور مرتبہ ہے۔

"وَاللّهُ غَالِبٌ عَلَى أَمْرِهِ وَلَـكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لاَ يَعْلَمُونَ؛

اور اللہ اپنا منشا پورا کرنے پر قادر ہے لیکن زیادہ تر لوگ نہیں جانتے۔" (سورہ یوسف، آیت 21)۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha