اگر ایران کی بجلی کو نشانہ بنایا گیا تو اسرائیل میں صرف ایرانی میزائلوں کی چمک دیکھائی دے گی:ایرانی فوج
اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، جنگ کے چوتھے ہفتے میں داخل ہوتے ہی خطے کی صورتحال ایک نئے اور زیادہ پیچیدہ مرحلے میں داخل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔گزشتہ تین ہفتوں کے دوران ایران نے اپنے حملوں کو اس انداز میں ترتیب دیا کہ اسرائیل کے فضائی دفاعی نظام کو کمزور کیا جا سکے اور بعض صورتوں میں اسے مؤثر انداز میں مفلوج بھی کیا جا سکے۔
رپورٹ کے مطابق اس حکمت عملی کے نمایاں نتائج سامنے آئے ہیں، اور اب میدانِ جنگ میں ایک نئی حکمت عملی کے آثار نمایاں ہو رہے ہیں۔ مختلف نوعیت کے ہتھیاروں کا استعمال، زیادہ پیچیدہ عسکری حربے، اور ایسے اہداف کا انتخاب جو پہلے ترجیح نہیں تھے یہ تمام عناصر اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ تنازع ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔
اس نئے مرحلے میں صرف دفاعی نظام کو عبور کرنا ہی مقصد نہیں بلکہ اس کی بحالی کو روکنا اور فوجی معاونتی و لاجسٹک ڈھانچے کو بھی نشانہ بنانا شامل ہے، تاکہ طویل مدت میں اسرائیل کی عملی صلاحیت کو شدید دباؤ کا سامنا رہے۔
ادھر ایرانی مسلح افواج کی اعلیٰ سطح کی تیاری کا بھی ذکر کیا گیا ہے، اور واضح انتباہ جاری کیا گیا ہے کہ ایران کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کے خلاف کسی بھی کارروائی کا فوری اور بھرپور جواب دیا جائے گا۔
رپورٹ کے مطابق پیغام بالکل واضح ہے: اگر ایران کی توانائی تنصیبات کو معمولی سا بھی نقصان پہنچا تو اس کے جواب میں اسرائیل کے توانائی کے ڈھانچے کو اس شدت سے نشانہ بنایا جائے گا کہ رات کے اندھیرے میں اسرائیل کے آسمان پر صرف میزائلوں کی روشنی ہی دکھائی دے گی۔
آپ کا تبصرہ