اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق،پاکستان کے ایک سابق سینیٹر نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے حالیہ ردعمل کے بعد امریکہ اور اسرائیل اب تک صدمے کی کیفیت میں ہیں اور اپنی کارروائیوں کی بھاری قیمت چکا رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، پاکستانی سیاستدان مشاہد حسین سید نے جاری فوجی کارروائیوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل ایران کے طاقتور جوابی اقدامات سے ابھی تک سنبھل نہیں سکے۔
انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں لکھا کہ “جنگ کی قیمت ادا کی جا رہی ہے؛ امریکی اور اسرائیلی حملہ آور اب بھی صدمے میں ہیں، جبکہ ایران بھرپور جواب دے رہا ہے اور وہ اپنے اقدامات کی بھاری قیمت چکا رہے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ یہ ردعمل اسرائیل میں دیمونا کی جوہری تنصیبات سے لے کر امریکہ کے مبینہ “ناقابلِ تسخیر” فوجی اڈے ڈیاگو گارسیا تک دیکھا جا سکتا ہے۔
مشاہد حسین سید نے اپنی بات کو تاریخی تناظر دیتے ہوئے ایران-عراق جنگ کا حوالہ بھی دیا اور کہا کہ 1980 میں عراق کے حملے کے چند ہفتوں بعد برطانوی اخبار ٹائمز نے “کسی انقلاب پر حملہ نہ کرو کے عنوان سے اداریہ شائع کیا تھا، جو آج بھی قابلِ ذکر ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل کے اقدامات کا وقتِ حساب آ پہنچا ہے، جبکہ واشنگٹن میں پالیسی ساز اب کسی “خارجی حکمتِ عملی” یا راستۂ فرار کی تلاش میں ہیں تاکہ مزید الجھنے سے بچ سکیں۔
یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے اور مختلف ممالک کی جانب سے بیانات اور ردعمل میں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔
آپ کا تبصرہ