ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ قومی مفاد کی بنیاد پر عقلمندانہ اور منطقی راستہ یہ ہے کہ مسلح افواج کی میدانِ جنگ میں حاصل کردہ کامیابی کو سفارتی محاذ پر بھی مکمل کیا جائے۔
خلیج فارس اور بحیرہ عمان میں ایرانی ساحلی علاقوں اور متعدد ایرانی آئل ٹینکروں پر ہونے والے حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی غیر معمولی سطح تک پہنچ گئی ہے۔ ان حملوں کے نتیجے میں مالی نقصان اور عملے کے متعدد افراد زخمی ہوئے، جس کے بعد ایران کی مسلح افواج نے سخت اور مربوط ردعمل ظاہر کیا ہے۔
ایران کی مسلح افواج کے سربراہ سرلشکر حاتمی نے کہا ہے کہ فوج کے سپاہی ہر وقت دشمن کے مقابلے کے لیے تیار ہیں اور قیادت کے احکامات پر جان قربان کرنے سے دریغ نہیں کریں گے۔
خاتم الانبیاء (ص) کے مرکزی ہیڈکوارٹر کے ترجمان ابراہیم ذوالفقاری نے اسلامی جمہوریہ ایران نے نیک نیتی کے ساتھ مذاکرات کے سابقہ معاہدوں پر عمل کرتے ہوئے محدود تعداد میں آئل ٹینکرز اور تجارتی بحری جہازوں کے آبنائے ہرمز سے منظم طریقے سے گزرنے پر رضامندی ظاہر کی۔
ایرانی بری فوج کے کمانڈر نے خبردار کیا ہے کہ اگر دشمن نے زمینی جنگ کا راستہ اختیار کیا تو اسے شدید، مہنگی اور ناقابل تلافی نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا، جبکہ ایرانی افواج ملک کی ہر سرحد پر مکمل تیاری کے ساتھ موجود ہیں۔
جنگ کے چوتھے ہفتے میں داخل ہوتے ہی خطے کی صورتحال ایک نئے اور زیادہ پیچیدہ مرحلے میں داخل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔گزشتہ تین ہفتوں کے دوران ایران نے اپنے حملوں کو اس انداز میں ترتیب دیا کہ اسرائیل کے فضائی دفاعی نظام کو کمزور کیا جا سکے اور بعض صورتوں میں اسے مؤثر انداز میں مفلوج بھی کیا جا سکے۔
امریکہ کی یونیورسٹی آف میری لینڈ کے پروفیسر اور سیاسی معیشت کے ماہر فرینک مسمار نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ کسی بھی قسم کی فوجی مہم جوئی کا آغاز کرتا ہے۔