
بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || مجمع تقریب مذاہب اسلامی اسمبلی نے الازہر یونیورسٹی کے بیان پر سخت الفاظ میں جوابی بیان جاری کی ہے جس کا متن درج ذیل ہے:
باسمه تعالی
الازہر کی طرف سے ایران کے پڑوسیوں پر مبینہ حملے کی مذمت کی خبر افسوس اور حیرت کا سبب بنی۔
باوجود اس کے، کہ ایران ایک پائیدار امن کے لئے مذاکرات میں مصروف تھا غدار صہیونی دشمن کے بزدلانہ جارحیت کا نشانہ بنا۔ چند ہی گھنٹوں میں ہمارے رہبر معظم شہید امام سید علی خامنہ ای (رضوان اللہ علیہ) اور عہدیداران اور فوجی کمانڈر جو اپنے دفتروں یا گھروں میں اپنے معصوم بچوں کے ساتھ تھے، شہید ہوگئے۔ ازہر شریف سے توقع تھی کہ اسی ابتداء میں ہی اس بزدلانہ حملے کی مذمت کرتا لیکن حتی اسے ایک تعزیتی پیغام لکھنے کی توفیق تک نہیں ہوئی!
کیا مسلمانوں کے خلاف اسلحہ اٹھانے والے اور اس سے قبل 40000 سے زائد بچوں اور عورتوں سمیت 80000 فلسطینیوں کو شہید کرنے والے کفار کے ساتھ دوستی قابل مذمت نہ تھی۔
"کیا قرآن کریم نے خدا کے دشمنوں کے دوستی سے بآز نہیں رکھا ہے:
"يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ لاَ تَتَّخِذُواْ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى أَوْلِيَاء بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاء بَعْضٍ وَمَن يَتَوَلَّهُم مِّنكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ إِنَّ اللّهَ لاَ يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ؟؛
اے ایمان لانے والو! یہودیوں اور عیسائیوں کو اپنا دوست نہ بناؤ، یہ لوگ آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں اور تم میں سے جس نے ان سے دوستی کی تو وہ ان ہی میں سے ہے۔ یقینا اللہ ظالموں کی راہنمائی نہیں کرتا۔" (المائدہ - 51)
کیا مناسب نہ تھا کہ ازہر شریف "أَشِدَّاء عَلَى الْكُفَّارِ" کے تقاضوں کے مطابق خلیج فارس کے علاقے کی عرب ریاستوں کو خبردار کرتا کہ صہیونی ریاست اور اس کے حامیوں سے دوستی اللہ کو پسند نہیں ہے، اور اس کی مذمت کرتا اور عرب ریاستوں کو اس خطائے عظیم پر متنبہ کرتا؟
کیا آپ اسلام دشمنوں کے مکر کو نہیں دیکھتے ہیں جو عرب ممالک کو مورچہ بنا کر ہمیں نشانہ بنا رہے ہیں؟
کیا ہم ہاتھ پر ہاتھ دھر بیٹھ جائیں عرب سرزمینوں میں دشمن کے ریڈار ایک غیر منصفانہ جنگ ہم پر تھونپ دیں، اور ہم تماشا دیکھیں اور صرف برداشت کریں؟ ہیہات منّا الذلۃ
کیا ہمارے ہوش و حواس چلتے بنے ہیں کہ موجود جارحیت کو ایران سمجھنے لگے ہیں اور حقیقی جارح کو اپنے حال پر چھوڑ گئے ہیں! کیا ایران نہیں تھا جس نے میدان عمل میں فلسطینیوں کی مدد کی اور اب غزہ کی جنگ میں فلسطیینوں کی میدانی میدان حمایت کی قیمت چکا رہا ہے؟
کیا آپ بھول گئے کہ غزہ کی جنگ میں عرب حکام کی طرف سے ایک گولی بھی اسرائیل پر نہیں چلائی گئی؟
کیا ہمارے پڑوسیوں کو یہ حق حاصل ہے کہ اپنی سرزمینوں کو عالم اسلام کے مشترکہ دشمنوں کے سپرد کریں تاکہ ایران کی سالمیت اور اس کی قیادت کو بزدلانہ حملوں کا نشانہ بنائیں؟
کیا ہمارے پڑوسی ممالک اپنی سرزمین میں موجود امریکی اڈوں کے کردار کی ذمہ داری قبول نہيں کریں گے؟ کیا آپ ان صہیونی حرکتوں کے پیچھے اسلام دشمن طاقتوں کا ہاتھ نہیں دیکھ پا رہے ہیں؟
کیا وہ وقت نہیں آیا کہ ازہر شریف اپنی ہزار سالہ دانش سے فائدہ اٹھائے اور قرآنی آیات کی روشنی میں غاصب صہیونی ریاست کے خلاف حکم جہاد کو زندہ اور بحال کرے اور عرب حکام سے مطالبہ کرے کہ اسلامی ممالک کا اتحاد قائم کرکے ید واحدہ بنیں اور اس ریاست کے مجرم حکمرانوں کے حرص و لالچ کے خلاف اٹھ کھڑے ہوجائیں؟
کیا آپ نہیں دیکھ پا رہے ہیں کہ عالمی استکبار اعلانیہ طور پر اور خطے میں ان کے کٹھ پتلی خفیہ طور پر غاصب ریاست کی حمایت کر رہے ہیں؟
ہم نے کبھی بھی اپنے پڑوسیوں سے دشمنی نہیں کی ہے اور کبھی بھی امیر نشین اور بادشاہ نشین عرب ریاستوں میں حکومت کی تبدیلی کے خواہاں نہیں رہے ہیں۔ ہم نے حربی کفار کے خلاف ہتھیار اٹھا لئے ہیں۔ ہم نے مسلمانوں کو کبھی بھی نشانہ نہیں بنایا اور انہیں امت واحدہ سمجھتے ہیں، اور امت مسلمہ کے درمیان اتحاد، دوستی اور رأفت و رحمت کے داعی ہیں اور مسلمانوں کی محبت کو اپنا فریضہ سمجھتے ہیں، خواہ ہمارے پڑوسی ہمارے ساتھ نامہربان ہی کیوں نہ ہوں۔
ہم نے کبھی بھی ان پر اسلحہ نہیں تھانا اور نہیں تھانیں گے۔ ہم نے ہرگز کسی بھی محترم مسلمان کو نشانے پر نہیں لیا ہے۔ ہم نے کسی بھی مسلمان کی حرمت شکنی نہیں کی ہے۔ ہم نے کبھی میدان جنگ کا دائرہ نہیں پھیلایا، کیونکہ ہمارے ساتھ اس جنگ پرست، مکار اور خونخوار صہیونی دشمن کی دشمنی سبب نہیں بنتی کہ ہم عدالت کے مدار سے نکل جائیں۔ جان لیں کہ اگر آج عرب دنیا اور پڑوسی ممالک حق و حقیقت کی طرف نہ آئیں اور ظالم کی حمایت کریں، ایک دن یہ ظلم خطے کے حکمرانوں کا گریبان پکڑے گا اور نہ کوئی حامی و مدد گار ہوگا ان کے لئے، نہ ہی جائے فرار۔
جان لیں کہ ایرانی پوری تاریخ میں ایک مضبوط اور ثابت قدم قوم رہے ہیں، ہم نے کبھی بھی ظلم و ستم کے مقابلے میں سر خم نہیں کیا ہے اور نہیں کریں گے۔ ہم اپنا دفاع کر رہے ہیں۔ یہ دفاعی جہاد ہے جو امت مسلمہ کے لئے ایرانی-عربی عزت و عظمت کو ساتھ لائے گا۔ ہم دشمن کی جارحیت اور دہشت گردانہ حملوں کے ساتھ ساتھ دوستوں کی ملامت کو بھی برداشت کریں گے۔ لیکن اپنی مقاومت اور مقدس جہاد سے دست بردار نہیں ہونگے۔ ہم ایسی قوم بننے کے لئے تیار ہیں اللہ ہمیں دوست رکھتا ہے اور ہم بھی اس کو دوست رکھتے ہیں۔ اسلامی امت کے شانہ بشانہ رہیں گے اور اللہ کی راہ میں دشمنان اسلام کے خلاف لڑتے ہیں، اور ملامت کرنے والوں کی سرزنش کی پروا نہیں کرتے۔ یہ اللہ کا فضل ہے جو کہ اللہ جسے چاہتا ہے عطا فرماتا ہے اور اللہ بہت وسعت والا ہے بڑا جاننا والا۔
جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
"يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ مَن يَرْتَدَّ مِنكُمْ عَن دِينِهِ فَسَوْفَ يَأْتِي اللّهُ بِقَوْمٍ يُحِبُّهُمْ وَيُحِبُّونَهُ أَذِلَّةٍ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ أَعِزَّةٍ عَلَى الْكَافِرِينَ يُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللّهِ وَلاَ يَخَافُونَ لَوْمَةَ لآئِمٍ ذَلِكَ فَضْلُ اللّهِ يُؤْتِيهِ مَن يَشَاء وَاللّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ؛
اے ایمان لانے والو ! جو تم میں سے ان اپنے دین سے پلٹ جائے تو کوئی بات نہیں بہت جلد اللہ ایک جماعت کو لائے گا جنہیں وہ دوست رکھتا ہوگا اور وہ اسے دوست رکھتے ہوں گے، وہ ایمان والوں کے سامنے نرم ہوں گے اور کافروں کے مقابلے میں سخت، وہ اللہ کی راہ میں جہاد کریں گے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پروانہ کریں گے یہ اللہ کا فضل و کرم ہے جسے چاہتا ہے، وہ عطا کرتا ہے اور اللہ بڑی وسعت والا ہے، بڑا جاننے والا۔" (المائدہ - 51)
جان لیں کہ غدار دشمن حتیٰ کہ مظلوم غزہ میں اپنے مقاصد نہ کر سکا، اور اپنی شکست چھپانے کے لئے کوشاں تھا چنانچہ اس نے اسلامی ایران پر حملہ کیا۔
اس نے خطے میں امریکی-صہیونی اڈوں کو ہمارے اوپر حملے کا اوزار بنا دیا تا کہ خطے میں ایک نیا فتنہ کھڑا کریں، اس لئے کہ اپنے بزعم غزہ میں اپنی شکست سے جان چھڑا دے یا اسے چھپا دے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ