بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ "امریکہ زوال" کا تیسرا بین الاقوامی سیمینار اکتوبر کے مہینے میں، چھ آبان 1404 میں، "دنیا کا نیا دور" کے عنوان سے تہران میں منعقد ہؤا۔ جس میں اندرونی اور بین الاقوامی یونیورسٹیوں اور تحقیقاتی مراکز نے شرکت کی اور اندرونی اور غیر ملکی محققین، پروفیسروں نے خطاب کیا اور امریکہ کے سابق سفارت خانے میں ویڈیو کانفرنس کے ذریعے بھی کئی فعال کارکنوں اور ماہرین نے بھی اس سیمینار کی ایک نشست میں تقاریر کیں۔
فعال امریکی کارکن، سینڈر ہیکس (Sander Hicks)، جو اس کانفرنس کے مقرر ہیں، نے کہا:
۔۔۔ امن اس دن مشرق وسطیٰ میں آ سکے گا جب ہم ان [خطے کے] ممالک کے درمیان پھوٹ ڈالنے والی جھوٹی داستانوں کا یقین کرنا چھوڑ دیں۔ اب جب میں چاہتا ہوں کہ اپنے آج کے خطاب کو سمیٹ لوں، تو مجھے کہنے دیجئے کہ محسوس کر رہا ہوں کہ "یقینا الحاج نادر طالب زادہ جنت سے ہمیں دیکھ کر مسکرا رہے ہیں۔ نادر سلسلہ وار "افق نو کانفرنسوں" کے بانی، عشق کی حد تک تحریک دلانے والی بین الاقوامی کانفرنسوں کے انعقاد کے مشتاق تھے جن میں افراد، ممنوعہ سرحدوں کو عبور کر لیتے تھے تاکہ اپنے نظریات کو ایک دوسرے کے سامنے رکھ لیں۔ سنہ 2019ع میں ٹرمپ کے وائٹ ہاؤس نے ان پر "یہود دشمنی" (Antisemitism) کا الزام لگایا اور امریکی وزارت خزانہ نے ان پر شدید پابندیاں عائد کر دیں۔ ٹرمپ اور ان کے ساتھیوں نے افق نو کانفرنس میں ہماری بین الاقوامی سفارتکاری میں خلل ڈالنے کی کوشش کی، ایف بی آئی کو ہمارے گھروں میں بھجوا دیا اور ہمیں سخت تنبیہ کی کہ ہمیں بیروت میں نادر کی کانفرنس میں نہیں جانا چاہئے۔
یہ بعینہ تضاد ہے کہ ٹرمپ یہود دشمنی کے الزام میں غیر رسمی سفارتی بات چیت، اور بین الاقوامی کانفرنسوں کے ذریعے، ایران اور دوسرے ملکوں کے درمیان قیام امن کے لئے ہماری کوششوں میں خلل ڈال دیں؛ حالانکہ ٹرمپ نے خود ـ ہولوکاسٹ کے منکر اور گوروں کی نسلی بالادستی اور برتری کے قائل شخص ـ "نیک فونٹیس" (Nick Fuentes) کے ساتھ وائٹ ہاؤس میں رات کا کھانا کھایا ہے۔ سنہ 2017ع میں یہود دشمن نئوفاشسٹوں نے ریلی نکالی ـ جس میں "ہیدر ہیئر (Heather Heyer)" مارا گیا ـ تو ٹرمپ نے کہا: "دونوں فریق اچھے لوگ ہیں۔"
میں نے سنہ 2022ع میں نادر کی وفات سے قبل، ان سے، ان پر لگے ہوئے یہود دشمنی کے الزام کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے پرجوش انداز میں کہا: "ہم یہود دشمن نہیں ہیں۔ ہماری تمام کانفرنسوں میں دو یا تین یہودیوں، یہودی مفکرین وغیرہ نے شرکت کی ہے۔ ہماری آخری کانفرنس ـ جس میں تم [ہیکس] بھی شریک تھے، ربی ویس (ئیسروئیل ڈاویڈ ویس (Yisroel Dovid Weiss)) نے شرکت، میکو پیلڈ (Miko Peled) نے شرکت کی جو اسرائیل میں پیدا ہؤا ہے اور کتاب "جنرل کا بیٹا" (The General's Son: Journey of an Israeli in Palestine) کا مصنف ہے، امریکی سیاسی سائنسدان نورمین فنکلسٹین (Norman Gary Finkelstein) نے شرکت کی، چنانچہ ہم یہود دشمن نہیں ہیں اور یہ جھوٹا الزام ہے۔" میرے لئے نادر طالب زادہ کا یہ نظریہ بہت متاثر کن تھا کہ "ہمارے پاس ایسا راستہ ہے کہ ہم صہیونیت مخالف ہوں اور جنگ مخالف ہوں لیکن یہود دشمن نہ ہوں۔" مشرق وسطیٰ میں قیام امن کا صرف یہی ایک راستہ ہے۔
میرے دوستو! نوبل امن انعام مستقبل میں ان افراد کو ملے گا جو ایسا راستہ ڈھونڈ لیں جو فلسطینی عوام کے لئے امن و وقار کا تحفہ لائیں، غزہ کے عوام کو اسرائیلیوں کے برابر حقوق دلوائیں؛ فلسطینی ریاست کے قیام میں کردار ادا کریں، یا ایک وسیع البنیاد سیکولر ریاست قائم کریں جس میں سب کو حکمرانی کا حق حاصل ہو۔
نوبل امن انعام مستقبل میں ان افراد کو ملے گا جو کسی ایک جنگ کے خاتمے کا راستہ ڈھونڈ لیں؛ وہ بھی تمام ذرائع ابلاغ کی طرف کے محرکات اور تشہیری مہمات کا خاتمہ کرنے کے ذریعے، جو ہمیں قائل کر لیتی ہیں کہ جھوٹی داستانوں کو تسلیم کریں اور ہمیں قوم پرستانہ جذباتی جنون اور خونریزی کی شہوت کی طرف کھینچ لیتی ہيں۔ حالانکہ ہماری قدر و قیمت اس سے کہیں بالاتر ہے۔
علاقائی سطح پر، ریاست نیویارک کی سطح پر، میں تین سال سے شمالی نیویارک میں "امن، عدم تشدد اور بین المذاہب مفاہمت" کے بارے ميں کانفرنس منعقد کرتا ہوں۔ ہم ہر سال موسم گرما میں، خوبصورت خلوت ـ کے عنوان سے جس کو ہم نے "پرامن جھیل، طاقتور پہاڑ" کا نام دیا ہے۔ یہ تجربہ اور مذاہب کے درمیان باہمی تعارف و تعامل اور شناخت اور آگاہی ـ ایمان اور امن و سکون کے تئیں ہماری حاجتمندی کو تقویت دیتی ہے۔ میں اس سال "دل پر نور کی تابش" کے ایک چھوٹے سے تجربے سے بھی گذرا ہوں؛ میں [بدھ مت] کی کتاب سوترا حکمت کا دل (Sutra Heart of wisdom) کا مطالعہ اور تدریس کرنے کے بعد سمجھ گیا کہ میرا ضمیر اور میرا نفس بہت حد تک صرف ایک وہم ہے، میرا حقیقی خود [Self] دوسروں کے ساتھ تعلق میں ظہور پذیر ہوتا ہے: گروہ کی صورت میں سرگرمیاں، تھیئٹر کی صورت میں اجتماعی سُرُور، مشاعرے، بحالی کی نشستیں (Recovery meetings)، گروہی مراقبہ (Group meditation) اور دعا؛ یہ وہ سُرُور و شادمانی ہے جو میں دنیا بھر کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔ چنانچہ، آيئے آج اسی کانفرنس میں بڑی آرزؤں کا اظہار کریں۔
ایئے فیصلہ کن جوش و خروش کے ساتھ امن پسندانہ کام کے لئے، نسل کشی اور نفرت کے خاتمے کی غرض سے، ایک منصوبہ بنائیں۔ حقیقت کی روح، فطری محبت (Radical Love) کی مدد سے ہم حتیٰ سرمایہ داری کے مسائل اور دولت کی شدید عدم مساوات سے بھی نمٹ سکتے ہیں۔
میں اپنے خطاب کے آخر میں ایک نئے پراجیکٹ کی تجویز پیش کرنا چاہتا ہوں:
"ایک بین الاقوامی امن مرکز اور ایک بین المذاہب خلوت کی فضا کی تأسیس، جس کی جڑیں ایران کے شہر مشہد اور امریکہ کے شہر نیویارک میں ہوں."
ہمارے ممالک ـ جو جیوپولیٹیکل تصورات میں عام طور پر دشمن سمجھے جاتے ہیں ـ امن کی خاطر دو شرکاء بن سکتے ہیں۔ اندرونی روشنی کے بارے میں کوئیکر کا نظریہ، ذین (The Zen of Quakerism) اور میڈیٹیشن کا عقیدہ، ذهنآگاهی (Mindfulness = ذہن سازی ۔ آگاہی ۔ شعور ۔ مرکوزیت) کے تناظر میں اور عشق الٰہی کی صوفیانہ روایت سب کا ااشارہ ایک حقیقت کی طرف ہے: یہ کہ ہر فرد کے اندر ایک مقدس شیۓ پائی جاتی ہے۔ ان دو خواہر خواندہ شہروں میں خلوت نشینی، بات چیت اور تخلیقی بیٹھکوں میں ہم ایسی چيزوں کو پروان چڑھا سکتے ہیں جن کو میں ہمیشہ تقویت دینا چاہتا تھا: معاشرہ، ضمیر، اور تشدد کے مقابلے میں مقاومت و مزاحمت کی ہمت و شجاعت۔ جس جگہ سیاست شکست کھاتی ہے، وہاں لوگ پل بنا سکتے ہیں۔ جو دنیا غزہ، یوکرین، پابندیوں اور جوہری وحشت کی وجہ سے پارہ پارہ ہو گئی ہے، اس دنیا میں یہ مراکز ایک زندہ متبادل کے طور پر مجسم ہو سکتے ہیں؛ ایک عملی نمونہ اس امن کا، جس کی جڑیں روح، ثقافت اور مشترکہ انسانیت میں پیوست ہیں۔
شکریہ ادا کرتا ہوں کہ آپ نے میری بات سنی، خدا آپ کو خیر و برکت دے، اور اللہ یہاں ہمارے کام میں خیر و برکت دے۔
و السلام علیکم
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ