بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || ایران اور امریکہ کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کے ہر دور سے پہلے، ہم امریکی صدر کی طرف سے مخصوص اور کبھی متضاد مؤقف دیکھتے آئے ہیں۔ ایک طرف دھمکی آمیز زبان استعمال کی جاتی ہے اور دوسری طرف ایران کے ساتھ فوری معاہدے تک پہنچنے کے واضح اشارے دیئے جاتے ہیں۔ اس دوہرے رویئے سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن مطلق العنان طاقت کی پوزیشن میں ہونے سے زیادہ، ایک پیچیدہ اور مہنگی صورتحال سنبھالنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ٹرمپ نے حتیٰ کہ واضح طور پر اعلان کیا ہے کہ وہ ذاتی طور پر بالواسطہ مذاکرات کے عمل کی پیروی کر رہے ہیں؛ یہ معاملہ ان کے لئے، اس کیس کی اہمیت اور اشد ضرورت کا ثبوت ہے۔ لیکن بنیادی سوال یہ ہے کہ: اگر امریکہ کا پلہ بھاری ہے تو وہ تیزرفتاری اور فوری نتیجے پر اتنا زور کیوں دے رہا ہے؟
حقیقت یہ ہے کہ امریکی صدر کئی اعتبار سے شدید دباؤ کا شکار ہیں:
اول؛ صہیونی ریاست کا دباؤ
نیتن یاہو، نیز امریکہ میں اسرائیل کے حامی انتہا پسند دھڑے ایران کے خلاف سخت گیر رویہ اپنانے کے خواہاں ہیں اور وہ وائٹ ہاؤس کو مہنگے راستے اختیار کرنے کی طرف دھکیلنے کے لئے کوشاں ہیں۔ اس سیاسی دباؤ نے ٹرمپ کے حرکت پذیری کی صلاحیت محدود کر دی ہے۔ البتہ اہم نکتہ یہ ہے کہ خود اسرائیل جنگ چھڑنے سے شدید خوفزدہ ہے لیکن امریکہ سے اسرائیل کے مطالبات کا مرکزی محور، مذاکرات میں میزائل کا معاملہ شامل کرنا ہے۔
دوئم؛ امریکہ کے اندرونی چیلنجز
ٹرمپ کے انتخابی وعدوں کا ایک قابل ذکر حصہ ابھی تک پورا نہیں ہؤا ہے اور امریکی عوام معاشی اور سماجی مسائل کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ ایسی صورتحال میں امریکی حکومت کو ایک 'بیرونی حصول یابی' کی ضرورت ہے جسے وہ کامیابی کے طور پر پیش کر سکے۔ چین کے خلاف محاصل سمیت متعدد خارجہ پالیسیوں کی ناکامی، یوکرین جنگ ختم کرنے میں ناکامی، مشرق وسطیٰ کے مسائل وغیرہ نے اس صورتحال کو مزید ابتر کر دیا ہے۔
سوئم؛ فوجی کشیدگی کی سطح میں اضافہ
امریکی جنگی سازوسامان اور بحری جہازوں کی خطے میں منتقلی اور فوجی کارروائی کے لئے تیاری کے مظاہروں اور ٹرمپ کی ہلڑبازیوں نے امریکہ کے دوستوں اور ایران کے دشمنوں کی توقعات میں شدید اضافہ کیا ہے۔ کوئی ٹھوس نتیجہ کے حاصل کئے بغیر اس صورتحال کا جاری رہنا واشنگٹن کے لئے بھاری سیاسی اور مالی اخراجات کا باعث بن رہا ہے اور تاخیر ہو تو اس صورت حال سے سلامتی کے ساتھ نکلنا مشکل سے مشکل تر ہوجائے گا۔
ایسی صورتحال میں امریکہ کے سامنے تین آپشن ہیں:
1۔ جنگ:
اسلامی جمہوریہ ایران کی جانب سے واضح طور پر یہ اعلان کرنے کے بعد ـ کہ کوئی بھی تصادم علاقائی جنگ میں بدل جائے گا، ـ واضح ہے کہ اس منظرنامے کے اخراجات امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے لئے بہت بھاری، ناقابل برداشت اور غیر متوقعہ ہوں گے۔ یہ آپشن نہ معاشی طور پر معقول ہے اور نہ ہی تزویراتی لحاظ سے، منطقی نظر آتا ہے۔ بالخصوص اس لئے بھی کہ ایران فوجی لحاظ سے بھی کسی بھی جارحیت سے نمٹنے کے لئے تیار ہے چنانچہ یہ سابقہ جنگوں میں سے کسی بھی جنگ سے خطرناک، طویل اور تباہ کن ہوگی۔
2۔ خطے سے مکمل انخلاء اور پسپائی:
یہ انتخاب بھی پہلے ہی اٹھائے گئے سیاسی، ابلاغی و تشہیری اور فوجی اخراجات کے پیش نظر شکست تسلیم کرنے کے مترادف ہوگا اور ٹرمپ حکومت کو امریکہ کے اندر اور باہر شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑے گا۔
3۔ معاہدے تک رسائی:
موجودہ صورتحال سے باعزت طریقے سے نکلنے کے لئے امریکہ کا سب سے منطقی راستہ کسی ایسے معاہدے تک پہنچنا ہے جسے ایک اہم کامیابی کے طور پر پیش کیا جا سکے۔ معاہدے کی فنی اور تکنیکی تفصیلات سے قطع نظر، یہ ڈھانچہ خود وائٹ ہاؤس کے لئے ایک سیاسی کامیابی، تصور کیا جا سکتا ہے اور کشیدگی میں کمی اور موجودہ نمائشی ماحول سے پسپائی کا موقع فراہم کر سکتا ہے۔
اس سے بھی اہم نکتہ یہ ہے کہ آج عالمی سطح پر امریکہ کا بنیادی اور تزویراتی حریف ایران نہیں بلکہ چین ہے۔ چنانچہ مغربی ایشیا میں امریکہ کی مصروفیات جتنی زیادہ ہونگے، اور وہ یہاں جتنے زیادہ اخراجات برداشت کرے گا، اس کی توجہ اور وسائل چین کے ساتھ طویل مدتی مسابقت سے ہٹ جائیں گے؛ ایسی مسابقت جو عالمی طاقت کے توازن کے مستقبل کو طے کرتی ہے؛ ایسے حال میں کہ جب چین مہنگی فوجی مہم جوئی میں پڑے بغیر اپنی معاشی حیثیت اور تزویراتی ذخائر کو مضبوط کر رہا ہے۔
لہٰذا، موجودہ صورتحال کا جاری رہنا واشنگٹن کے فائدے میں ہونے سے زیادہ اس کے لئے نقصان دہ ہے۔ سیاسی عقل و شعور کا تقاضا ہے کہ امریکہ جلد از جلد اپنی مہنگی اور کھلی فائلوں کو منظم کرے اور تعامل کے راستے میں سے کم خرچ اور زیادہ حقیقت پسندانہ راستے کا انتخاب کرے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر: حامد موفق بہروزی
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ