18 فروری 2026 - 10:02
مآخذ: ابنا
ایران کا پُرامن جوہری حق ناقابلِ مذاکرہ ہے:عراقچی کا دوٹوک اعلان

جنیوا میں ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے واضح کیا ہے کہ ایران کا پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کا حق ناقابلِ مذاکرہ ہے اور اسے کسی بھی سیاسی دباؤ کے تحت محدود نہیں کیا جا سکتا۔

اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، جنیوا میں ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے واضح کیا ہے کہ ایران کا پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کا حق ناقابلِ مذاکرہ ہے اور اسے کسی بھی سیاسی دباؤ کے تحت محدود نہیں کیا جا سکتا۔

یورپی صدر دفتر اقوام متحدہ میں منعقدہ کانفرنس برائے تخفیف اسلحہ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عالمی امن و سلامتی کا موجودہ ڈھانچہ شدید دباؤ اور پیچیدہ چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔ ان کے مطابق مسلح تنازعات میں اضافہ، بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور کی خلاف ورزیاں، یکطرفہ پابندیاں اور جوہری ہتھیاروں پر دوبارہ انحصار نے عالمی ماحول کو غیر مستحکم بنا دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا اب بھی بارہ ہزار سے زائد جوہری وار ہیڈز کے سائے میں زندگی گزار رہی ہے، جن میں سے کئی ہائی الرٹ پر ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض ممالک کے دفاعی نظریات میں جوہری ہتھیاروں کو مرکزی حیثیت حاصل ہونا تشویشناک ہے اور یہ جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے کی روح کے منافی ہے۔

سید عباس عراقچی نے زور دے کر کہا کہ ایران نے ہمیشہ جوہری توانائی کو پُرامن مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی پالیسی اپنائی ہے اور وہ اپنے پروگرام کی شفافیت کے حوالے سے عالمی برادری کے ساتھ تعاون کرتا رہا ہے۔ ان کے بقول ایران نہ تو جوہری ہتھیار بنانے کا خواہاں ہے اور نہ ہی اس کی قومی سلامتی کی حکمت عملی میں ایسے ہتھیاروں کی کوئی گنجائش ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ مؤقف دفاعی پالیسی کے ساتھ ساتھ مذہبی اصولوں سے بھی ہم آہنگ ہے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ جوہری عدم پھیلاؤ کا معاہدہ رکن ممالک کو پُرامن جوہری توانائی کے حصول، تحقیق اور پیداوار کا واضح اور ناقابلِ تنسیخ حق دیتا ہے اور اس حق کو سیاسی بنیادوں پر معطل یا محدود نہیں کیا جا سکتا۔

انہوں نے امریکہ کی جانب سے جوہری معاہدے سے یکطرفہ علیحدگی کو کثیرالجہتی سفارت کاری کے لیے نقصان دہ قرار دیا اور کہا کہ اس اقدام سے اعتماد کو شدید دھچکا پہنچا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور کی صریح خلاف ورزی ہیں اور ایسے اقدامات کے خطرناک ماحولیاتی اور علاقائی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

سید عباس عراقچی نے کہا کہ ایران بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے ساتھ اپنے قانونی دائرہ کار میں تعاون جاری رکھے گا، تاہم یہ تعاون فنی اور غیر سیاسی بنیادوں پر ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران بامعنی اور نتیجہ خیز مذاکرات کے لیے تیار ہے بشرطیکہ اس کے جائز حقوق کو تسلیم کیا جائے اور کسی بھی نئے معاہدے میں یکطرفہ اقدامات کے خلاف ضمانتیں شامل ہوں۔

انہوں نے بتایا کہ خطے کے دوست ممالک کی سفارتی کاوشوں سے مذاکرات کا نیا دور شروع ہوا ہے اور جنیوا میں امریکہ کے ساتھ دوسرے مرحلے کی بات چیت بھی ہوئی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ عمل ایک پائیدار اور متوازن حل کی طرف پیش رفت کرے گا۔

اپنے خطاب کے اختتام پر انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ جوہری ہتھیاروں کے مکمل خاتمے کے لیے سنجیدہ اقدامات کرے اور دوہرے معیار ترک کرے، بصورت دیگر یہ ہتھیار خود انسانیت کے مستقبل کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔
 

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha